سرکاری دفاتر میں روزمرہ کی رشوت خوری کے خلاف اٹھنے والی آواز
سرکاری خدمت کے حصول کے دوران کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والی خاتون کی ایک ویڈیو نے ملک بھر کے شہریوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ فوٹیج، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ایک عام شہری نے مبینہ طور پر رشوت مانگنے والے سرکاری عملے کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔
اگرچہ بڑے پیمانے پر ہونے والے مالیاتی اسکینڈلز اکثر بحث کا حصہ رہتے ہیں، لیکن نادرا دفاتر، ایکسائز و ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اور پٹواری خانوں میں عام شہریوں کو درپیش روزمرہ کی مشکلات ان سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ ایسے نظام میں جہاں معمولی کام کے لیے بھی اضافی رقم دینا معمول بن چکا ہے، اس خاتون کی جرأت مندانہ لائحہ عمل نے ایک نئی بحث چھیر دی ہے۔
ہم روزمرہ کی رشوت کو کیوں معمول سمجھ بیٹھے ہیں؟
ہم میں سے اکثر لوگ سرکاری کھڑکی پر فائل روک دیے جانے پر مزاحمت کرنے کے بجائے خاموشی سے اضافی رقم دینا بہتر سمجھتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
- فائلوں کو جان بوجھ کر لٹکایا جاتا ہے تاکہ رشوت کی راہ ہموار ہو۔
- ڈیجیٹل پورٹلز کو نظر انداز کر کے دستی کارروائی پر زور دیا جاتا ہے۔
- شکایت کرنے والے شہریوں کو مزید تنگ کیے جانے کا خوف ہوتا ہے۔
یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک شہری اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا نہیں سیکھتے۔ جب تک ہم خود اپنے حقوق کے لیے نہیں بولیں گے، یہ مافیا فعال رہے گا۔
اگر آپ سے رشوت مانگی جائے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر کوئی سرکاری اہلکار آپ کو قانونی حق فراہم کرنے کے عوض نذرانے کا تقاضا کرے، تو فوری طور پر خاموش مت رہیں۔ متعلقہ محکمے کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کریں یا پاکستان سٹیزن پورٹل اور صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے پلیٹ فارمز پر اپنی شکایت درج کروائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ متعلقہ محکمے اس وائرل ویڈیو کا نوٹس لے کر ملوث اہلکاروں کے خلاف کیا ضابطے کی کارروائی کرتے ہیں۔ حقیقی تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب ایسے عناصر کے خلاف محض تبادلے کے بجائے سخت قانونی ایکشن لیا جائے۔
