لاہور پولیس آپریشنز ونگ نے شہر کے تمام چھ ڈویژنوں میں اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لیے ڈولفن اسکواڈ اور پولیس ریسپانس یونٹس (PRU) کی گشت کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کا مقصد ان علاقوں میں سیکیورٹی کو مزید سخت کرنا ہے جہاں موبائل چھیننے اور لوٹ مار کے واقعات زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔
یہ اقدام روایتی ناکوں کے بجائے موبائل نگرانی پر توجہ مرکوز کرتا ہے تاکہ مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس حکام کے مطابق، اب گشت کا عمل ایک باقاعدہ گرڈ سسٹم کے تحت ہوگا تاکہ کسی بھی علاقے کو طویل وقت تک بغیر نگرانی کے نہ چھوڑا جائے۔
لاہور پولیس اسٹریٹ کرائم پریوینشن کے اقدامات
lahore police street crime prevention کے تحت ڈولفن اسکواڈ اور پی آر یو کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مصروف مارکیٹوں، رہائشی علاقوں اور ان راستوں پر مستقل موجودگی برقرار رکھیں جہاں جرائم کی شرح زیادہ ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ان گلیوں اور راستوں کی کڑی نگرانی کرنا ہے جنہیں مجرم واردات کے بعد فرار ہونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
کمانڈرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی روشنی میں ہائی رسک زونز کی نشاندہی کریں اور وہاں گشت کی فریکوئنسی میں اضافہ کریں۔
نئی گشت کی حکمت عملی کیسے کام کرتی ہے؟
شہریوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اب انہیں اپنے معمول کے راستوں پر پولیس کی موجودگی زیادہ نظر آئے گی۔ اس حکمت عملی کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- کنٹرول روم اور فیلڈ یونٹس کے درمیان فوری رابطہ۔
- ایسے علاقوں میں پی آر یو ٹیموں کی تعیناتی جہاں بڑی گاڑیاں آسانی سے نہیں پہنچ سکتیں۔
- مشتبہ افراد کی تلاشی کے لیے رینڈم آپریشنز میں اضافہ۔
- 15 پر کال موصول ہوتے ہی فوری ریسپانس پروٹوکول کا نفاذ۔
اگر آپ کسی مشتبہ سرگرمی کو دیکھتے ہیں یا اسٹریٹ کرائم کا شکار ہوتے ہیں، تو فوری طور پر 15 پر رابطہ کریں۔ آپ کی بروقت اطلاع ہی پولیس کو مجرموں تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگرچہ گشت کے دائرہ کار میں اضافہ ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار آنے والے مہینوں میں اسٹریٹ کرائم کی شرح میں کمی پر ہوگا۔ شہری لاہور پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر حفاظتی ہدایات پر عمل کرتے رہیں۔ پولیس محکمہ اس نئی حکمت عملی کی کارکردگی کا جائزہ لے گا تاکہ ضرورت پڑنے پر مزید وسائل مختص کیے جا سکیں۔
