ڈونلڈ ٹرمپ کی کمپنی کی تجارتی سرگرمیاں ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہیں کیونکہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس نے ایک ایسی متنازعہ سروس کا انکشاف کیا ہے جس کے ذریعے کارپوریٹ ادارے اور سیاسی اتحادی سوشل میڈیا پر خصوصی پوسٹس کے لیے ماہانہ ایک لاکھ امریکی ڈالر تک ادا کر رہے ہیں۔ فنانشل ٹائمز اور برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹس کے مطابق، اس مہنگے ڈیجیٹل پیکیج کا مقصد امریکی صدر کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے براہِ راست تشہیری مہم چلانا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا مبصرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ کس طرح سیاسی اثر و رسوخ کو ڈیجیٹل دنیا میں تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کمپنی کی ڈیجیٹل سروسز کی تفصیلات

انکشافات کے مطابق، اس خصوصی سوشل میڈیا سروس کی ماہانہ فیس ایک لاکھ امریکی ڈالر تک مقرر کی گئی ہے۔ اس پیکیج کے خریداروں کو ٹرمپ کے زیر اثر پلیٹ فارمز پر خصوصی ڈیجیٹل مواد اور حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عوامی منصب اور ذاتی تجارتی مفادات کے درمیان لکیر کو دھندلا دیتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک کے عام شہریوں کے لیے، جہاں ڈیجیٹل شفافیت کے قوانین پر مسلسل بحث جاری ہے، یہ خبر اس بات کا ثبوت ہے کہ کس طرح دنیا کے طاقتور ترین حلقوں میں سرمائے اور سیاسی اثر و رسوخ کا گٹھ جوڑ کام کرتا ہے۔

واشنگتن میں بڑھتی ہوئی اخلاقی بحث اور تنقید

اخلاقیات پر نظر رکھنے والے اداروں اور قانونی ماہرین نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑی کمپنیاں حکومتی پالیسیوں میں اثر رسوخ حاصل کرنے کے لیے یہ بھاری فیس ادا کر سکتی ہیں۔ اس تنقید کا بنیادی محور مفادات کا ٹکراؤ ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی اہم سرکاری شخصیت ایسے تجارتی ادارے چلاتی ہے جو ذاتی مواصلاتی ذرائع سے آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ اس معاملے پر بین الاقوامی سطح پر مزید ضوابط اور سخت قوانین کی مانگ کی جا رہی ہے تاکہ ڈیجیٹل تشہیر میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

جیسے جیسے عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے، تحقیقاتی صحافی اس سروس کے پہلے گاہکوں اور کارپوریٹ شراکت داروں کی فہرست حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کو آنے والے ہفتوں میں اس تنازعے پر امریکی کانگریس کے ممکنہ ردعمل اور اخلاقیاتی کمیٹیوں کی رپورٹوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر یہ تفصیلات منظر عام پر آئیں تو مغربی جمہوریتوں میں اعلیٰ عہدیداروں کے کاروباری امور پر مزید سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔