نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بدھ کے روز اپنے اردنی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں مقبوضہ مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ (FO) کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کا بنیادی ہدف فلسطینی عوام کو درپیش شدید انسانی اور سیکیورٹی بحران پر قابو پانا تھا۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں، اسلام آباد اور عمان بین الاقوامی فورمز پر سفارتی کوششوں کو مربوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے تشدد کے حالیہ اضافے، نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور مشرق وسطیٰ کے خطے پر اس کے وسیع تر اثرات کا جائزہ لیا۔ پاکستان نے مسئلہ فلسطین پر ہمیشہ ایک اصول پر مبنی موقف اپنایا ہے، جس میں 1967ء کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی حل اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے پر زور دیا گیا ہے۔

سفارتی رابطے اور علاقائی استحکام

بدھ کے روز ہونے والی اس ملاقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں دارالحکومتوں میں مقبوضہ علاقوں کے شہریوں کی مشکلات پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ اردن کی قیادت فوجی کشیدگی کو روکنے اور بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش پیش رہی ہے۔ اردن کے ساتھ اپنے مؤقف کو ہم آہنگ کر کے، پاکستان اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور اقوام متحدہ جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے امت مسلمہ کی آواز کو مؤثر انداز میں بلند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دفتر خارجہ کے حکام نے بتایا کہ خطے کے اہم شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں۔ اس ملاقات میں پاکستان اور اردن کے درمیان دوطرفہ تعاون پر بھی بات چیت کی گئی، جس کا مقصد باہمی اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

دفتر خارجہ کی جانب سے مغربی کنارے کی پیش رفت کے سلسلے میں کسی ممکنہ او آئی سی قرارداد یا ہنگامی اجلاس کے حوالے سے جاری ہونے والے بیانات پر نظر رکھیں۔ سفارتی مبصرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اسلام آباد آنے والے ہفتوں میں متاثرہ فلسطینی علاقوں کے لیے مزید انسانی امداد کی کھیپ کا اعلان کرتا ہے یا نہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی اور سفارتی مصروفیات سے متعلق باضابطہ اپ ڈیٹس کے لیے آپ وزارت خارجہ کی آفیشल ویب سائٹ mofa.gov.pk ملاحظہ کر سکتے ہیں۔