بغیر ڈرل کے سلور ٹریٹمنٹ بچوں کے دانوں کے کیڑے کے خلاف نئی امید لے کر آیا ہے، جو ان والدین کے لیے بڑی راحت ہے جو اپنے بچوں کو ڈینٹسٹ کے پاس لے جانے سے کترات ہیں۔ ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ سلور ڈائیمین فلورائیڈ کا استعمال بچوں میں کیویٹیز کو روکنے کا ایک محفوظ اور مؤثر طریقہ فراہم کرتا ہے، وہ بھی ڈینٹل ڈرل کی خوفناک آواز کے بغیر۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں رہنے والے والدین جو اپنے بچوں کو دانتوں کے درد میں مبتلا دیکھتے ہیں، ان کے لیے یہ طریقہ علاج بچوں کی طبی دیکھ بھال میں ایک اہم تبدیلی ہے۔
سلور ٹریٹمنٹ کا طریقہ کار
روایتی فلنگز کے لیے لوکل اینستھیزیا، ڈرلنگ اور چھوٹے بچے کے لیے ڈینٹل چیئر پر بیٹھنا ایک انتہائی تکلیف دہ تجربہ ہوتا ہے۔ سلور ڈائیمین فلورائیڈ اس روایتی طریقہ کار کو بالکل بدل دیتا ہے کیونکہ اس میں متاثرہ دانت پر ایک خاص مائع لگایا جاتا ہے۔ یہ محلول دانتوں کو خراب کرنے والے بیکٹیریا کو مارتا ہے اور چند منٹ کے اندر دانت کے ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے۔
مقامی ڈینٹسٹ کا کہنا ہے کہ علاج شدہ حصہ سیاہ رنگ کا ہو جاتا ہے جو کہ اس بات کی علامت ہے کہ کیڑا رک چکا ہے، لیکن یہ چھوٹے بچوں کو زیادہ تکلیف دہ اور پیچیدہ سرجریوں سے بچا لیتا ہے۔ یہ دودھ کے دانتوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو ویسے بھی گرنے والے ہوتے ہیں۔
پاکستان میں دستیابی اور لاگت
بچوں کے دانتوں کے جدید علاج تک رسائی ماضی میں صرف بڑے شہروں کے مہنگے پرائیویٹ کلینک تک محدود تھی۔ تاہم جیسے جیسے طبی ماہرین اس کم تکلیف دہ طریقہ کار کو اپنا رہے ہیں، یہ تدریجی طور پر تدریسی اسپتالوں اور کمیونٹی ڈینٹل کیمپوں تک پہنچ رہا ہے۔
- فی دانت پانچ منٹ سے کم وقت میں فوری اطلاق
- روایتی فلنگز اور کیپس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم لاگت
- لوکل اینستھیزیا یا ڈرلنگ کے آلات کی بالکل ضرورت نہیں
والدین کو چاہیے کہ وہ یونیورسٹی ڈینٹل اسپتالوں سے رجوع کریں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا وہ اپنے بچوں کے کلینک میں سلور ڈائیمین فلورائیڈ باقاعدگی سے استعمال کر رہے ہیں۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ کا بچہ دانتوں میں حساسیت کی شکایت کرتا ہے یا آپ کو اس کی داڑھ پر سیاہ دھبے نظر آتے ہیں، تو درد بڑھنے کا انتظار نہ کریں۔ کسی ماہر ڈینٹسٹ سے ملاقات کا وقت طے کریں اور خاص طور پر پوچھیں کہ آیا یہ سلور ٹریٹمنٹ آپ کے بچے کے لیے موزوں ہے۔
یاد رکھیں کہ یہ علاج کیڑے کو تو روکتا ہے لیکن فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ کے ساتھ روزانہ برش کرنے اور میٹھی چیزوں سے پرہیز کا متبادل نہیں ہے۔ معمولی مسائل کو بڑے مسائل بننے سے روکنے کے لیے ہر چھ ماہ بعد باقاعدہ چیک اپ کروائیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
پاکستان ڈینٹل ایسوسی ایشن کی جانب سے پبلک سیکٹر کے اسپتالوں میں اس غیر جراحی علاج کے پھیلاؤ کے حوالے سے آنے والی نئی ہدایات پر نظر رکھیں۔ جیسے جیسے مقامی کلینیکل ٹرائلز اور ٹریننگ سیشنز ہوں گے، یہ امید ہے کہ ڈرل کے بغیر علاج بچوں کے دانتوں کی دیکھ بھال کا معمول بن جائے گا۔
