جنوبی ایشیا میں پائیدار اور منصفانہ امن کا قیام تنازع جموں و کشمیر کے پرامن حل کے بغیر ناممکن ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ علاقائی استحکام اور خوشحالی براہِ راست اس دیرینہ تنازعات کے منصفانہ حل سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

علاقائی امن اور کشمیر کی اہمیت

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت نہیں ملتا، خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی۔ صدر زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برداری کو خطے کے امن کے لیے آگے بڑھنا ہوگا۔ سرکاری بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ کشمیری عوام کی سیاسی اور اخلاقی حمایت ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی۔

  • بنیادی مؤقف: خطے میں دیرپا امن منصفانہ حل سے مشروط ہے۔
  • عزم: مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی۔
  • مطالبہ: کشمیریوں کے بنیادی حقوق کا احترام۔

سفارتی پس منظر اور اگلا لائحہ عمل

یومِ استحصال ہر سال پانچ اگست کے اقدام کے خلاف منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا کو مقبوضہ وادی کی صورتحال سے آگاہ کرنا ہے۔ اسلام آباد میں حکومتی شخصیات اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے مسلسل عالمی فورمز پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے۔

قارئین کے لیے اہم نکات

شہریوں کو چاہیے کہ وہ وزارتِ خارجہ کی جاری کردہ پریس ریلیز اور بین الاقوامی خبروں پر نظر رکھیں۔ آنے والے دنوں میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے حوالے سے سفارتی کوششیں تیز ہونے کا امکان ہے۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت ملک بھر میں اس حوالے سے تقریبات اور سیمینارز منعقد کیے جا رہے ہیں۔