وفاقی حکومت نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے لیے بھاری مالیاتی پیکیج اور اہم انفراسٹرکچر منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی ٹی وی کے مالی بحران کو کم کرنے کے لیے ہر سہ ماہی 3 ارب 25 کروڑ روپے جاری کرنے کی باقاعدہ منظوری دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد قومی نشریاتی ادارے کے انتظامی امور، ملازمین کی تنخواہوں اور ڈیجیٹل اپ گریڈیشن کے اخراجات کو پورا کرنا ہے۔
سرکاری میڈیا کے علاوہ اجلاس میں ملک کے انفراسٹرکچر کے اہم منصوبوں پر بھی غور کیا گیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے اس اجلاس کے دوران حکومت نے پنجاب میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی ضمانتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان فیصلوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ایک طرف سرکاری اداروں کی مالی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بھی کوشاں ہے۔
سیالکوٹ تا کھاریاں موٹروے کے لیے فنڈز کی ضمانت
پی ٹی وی کے لیے گرانٹ کے علاوہ ای سی سی نے ایک اہم ترین مواصلاتی منصوبے کے لیے بھی فنڈز کی راہ ہموار کی ہے۔ کمیٹی نے سیالکوٹ (سمبڑیال) سے کھاریاں تک موٹروے کی تعمیر کے لیے 27 ارب 62 کروڑ روپے کی سوورن گارنٹیز کی منظوری دی۔ اس پراجیکٹ سے پنجاب کے صنعتی شہروں کے درمیان آمدورفت بہتر ہوگی اور مال برداری کے اخراجات میں کمی آئے گی۔
سیالکوٹ، گجرات اور ملحقہ علاقوں کے تاجر طویل عرصے سے اس موٹروے کی تکمیل کا مطالبہ کر رہے تھے تاکہ برآمدی سامان کو بندرگاہوں تک بروقت پہنچایا جا سکے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ان ضمانتوں کے بعد اب اس منصوبے کے لیے تجارتی قرضوں کے حصول میں حائل رکاوٹیں ختم ہو جائیں گی۔
پی ٹی وی گرانٹ کی موجودہ صورتحال اور اہمیت
عوام کی طرف سے اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ نجی چینلز کی موجودگی کے باوجود سرکاری ٹی وی کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے کیوں چلایا جا رہا ہے۔ تاہم، ریاستی ادارے کے طور پر پی ٹی وی کی قومی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، خصوصاً ہنگامی حالات میں اطلاعات کی ترسیل کے لیے یہ ادارہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ نئی سہ ماہی گرانٹ سے ادارے کو اپنے مالیاتی دباؤ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ کا تعلق ٹرانسپورٹ یا صنعتی شعبے سے ہے تو سمبڑیال سے کھاریاں تک موٹروے کی تعمیر کے باقاعدہ آغاز اور اس سے جڑے ٹائم لائنز پر نظر رکھیں۔ دوسری طرف ٹیکس دہندگان کو چاہیے کہ وہ آنے والے بجٹ میں ان گرانٹس کے اثرات کا جائزہ لیتے رہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ فنڈز کا استعمال کتنی شفافیت سے ہو رہا ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے دنوں میں اس بات کا مشاہدہ کیا جائے گا کہ وزارت اطلاعات پی ٹی وی کے لیے ملنے والی اس رقم کو کس طرح استعمال کرتی ہے، آیا یہ رقوم صرف تنخواہوں میں جائیں گی یا نشریات کے معیار کو بہتر بنانے پر لگائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ موٹروے کے لیے بینکوں سے قرضوں کے حصول کے معاہدوں پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔
