وفاقی حکومت نے مالی مشکلات کے شکار قومی ادارے کے لیے بڑے مالی امدادی پیکیج کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پی ٹی وی بیل آؤٹ کے لیے 13 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اسلام آباد میں ہونے والے کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں منگل کے روز اس بھاری غیر ترقیاتی گرانٹ کی منظوری دی گئی تاکہ سرکاری چینل کے اخراجات اور تنخواہوں کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کو پچھلے کئی ماہ سے اشتہارات میں کمی اور مختلف سرکاری محکموں کی طرف سے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے شدید مالی بحران کا سامنا تھا۔
پی ٹی وی کو ہنگامی امداد کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
پاکستان کے سرکاری میڈیا اداروں کو روایتی آمدنی کے ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے شدید نقدی کے بحران کا سامنا ہے۔ پی ٹی وی کے کمرشل اشتہارات اخراجات، مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی کے تناسب سے نہیں بڑھ سکے۔ یہ ادارہ بنیادی طور پر حکومتی امداد اور بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیے جانے والے ٹی وی فیس پر انحصار کرتا ہے، جو بڑھتے ہوئے عملے اور نشریاتی اخراجات کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ اگر یہ رقم فوری طور پر جاری نہ کی جاتی تو ملازمین کو تنخواہیں دینا اور علاقائی مراکز کو چلانا ناممکن ہو جاتا۔
قومی خزانے پر بظاہر بوجھ
اربوں روپے کی اس ضمنی گرانٹ کی فراہمی سے ایسے وقت میں قومی خزانے پر مزید بوجھ پڑا ہے جب حکومت عالمی قرض پروگراموں کے تحت سخت مالیاتی اہداف کی پابند ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی گرانٹس کے لیے فنڈز کو موجودہ ترقیاتی یا جاری اخراجات سے منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے دیگر عوامی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی عارضی امداد سرکاری اداروں میں موجود ساختیاتی خرابیوں کا مستقل حل پیش نہیں کرتی۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
اگر آپ پی ٹی وی کے ساتھ کام کرنے والے کوئی وینڈر، پروڈیوسر یا ٹھیکیدار ہیں اور آپ کے پرانے واجبات رکے ہوئے ہیں، تو اپنے کاغذات مکمل رکھیں اور اسلام آباد کے فنانس ڈائریکٹوریٹ سے رابطہ جاری رکھیں۔ نئی مالی امداد کے تحت سب سے پہلے ملازمین کی تنخواہوں اور بنیادی اخراجات کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ وینڈرز کے بقایاجات مرحلہ وار جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
آگے کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے مہینوں میں وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے سرکاری میڈیا کی اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات پر نظر رکھیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا پی ٹی وی اپنی ڈیجیٹل کمائی کے ذریعے خود کفیل ہو پاتا ہے یا سال کے اختتام تک مزید سرکاری گرانٹس کی ضرورت پڑے گی۔
