وفاقی حکومت نے انفراسٹرکچر کے شعبے میں ایک اہم ترسیلی راستے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے فنڈنگ کی منظوری دے دی ہے۔ سیالکوٹ کھاریاں موٹروے کے منصوبے کو اس وقت بڑی تقویت ملی جب اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 27.62 ارب روپے کی خودمختار ضمانتیں جاری کرنے کی منظوری دی۔ اس مالیاتی منظوری کا مقصد تجارتی قرضوں کے حصول کو ممکن بنانا اور ایم 12 ایکسپریس وے کے فنانشل کلوز کو حتمی شکل دینا ہے، جو کہ ملک میں معاشی سختی کی وجہ سے بار بار التوا کا شکار ہوتا رہا ہے۔

ایم 12 موٹروے کے کام میں تیزی

69 کلومیٹر طویل سیالکوٹ کھاریاں موٹروے، جسے ایم 12 کا نام دیا گیا ہے، لاہور سیالکوٹ کوریڈور کی ایک اہم شمالی توسیع کے طور پر کام کرے گی۔ سمبڑیال کو کھاریاں سے جوڑنے والی اس نئی سڑک کا مقصد وسطی پنجاب اور بالائی علاقوں کے درمیان سفر کرنے والی مسافر گاڑیوں اور مال بردار ٹرکوں کے سفری وقت کو نمایاں طور پر کم کرنا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے اس منصوبے کو نجی بینکوں کے کنسورشیم سے قرض لینے کے لیے ان حکومتی ضمانتوں کی اشد ضرورت تھی۔ 27.62 ارب روپے کی اس ضمانت کے بغیر بینک بھاری سول تعمیرات کے لیے فنڈز جاری کرنے سے کترارہے تھے۔

  • منصوبے کا نام: سیالکوٹ کھاریاں موٹروے (ایم 12)
  • منظوری دینے والا ادارہ: اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)
  • مالیاتی ضمانت کی رقم: 27.62 ارب روپے
  • بنیادی روٹ: سمبڑیال سے کھاریاں

علاقائی لاجسٹکس پر اثرات

سیالکوٹ کی برآمداتی منڈیوں سے سامان لے کر اسلام آباد اور پشاور جانے والے ٹرانسپورٹرز اور مسافر طویل عرصے سے گرینڈ ٹرک روڈ پر ٹریفک کے شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک بار جب اس مالیاتی سنگ میل کے بعد تعمیراتی کام میں تیزی آئے گی، تو ایم 12 روٹ پر روزانہ ہزاروں بھاری ٹرک منتقل ہوں گے، جس سے گجرات اور جہلم کے گردونواح میں ٹریفک کا رش کم ہوگا۔ سیالکوٹ چیمبر کے صنعت کار طویل عرصے سے اس رابطے کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ نقل و حمل کے کم وقت سے لیدر گڈز، طبی آلات اور کھیلوں کے سامان کی ترسیلی لاگت میں براہ راست کمی آئے گی۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ بالائی پنجاب کے اس کوریڈور کے قریب ٹرانسپورٹ کے کاروبار، جائیداد یا صنعتی یونٹس کے مالک ہیں، تو زمین کے حصول کے تازہ ترین شیڈول اور ٹھیکیداروں کے کام شروع کرنے کے نوٹسز کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پورٹلز کا جائزہ لیتے رہیں۔ جائیداد کے خریداروں کو انٹرچینج پوائنٹس کے قریب زمین خریدنے سے پہلے این ایچ اے کے باضابطہ نقشوں کی تصدیق ضرور کر لینی چاہیے تاکہ روٹ میں ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں سے بچا جا سکے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

اس سنڈیکیٹڈ قرض کے معاہدے میں شامل تجارتی بینکوں پر نظر رکھیں تاکہ تصدیق ہو سکے کہ فنڈز باقاعدہ طور پر منصوبے کے اکاؤنٹ میں منتقل ہو چکے ہیں۔ ای سی سی کی منظوری اور بینکوں کی طرف سے فنڈز کے اجرا کے درمیان تاخیر ماضی میں پاکستان کے کئی انفراسٹرکچر منصوبوں کو متاثر کرتی رہی ہے، اس لیے آنے والے مہینوں میں زمین پر عملی کام کی رفتار ہی اس مالیاتی کامیابی کا اصل امتحان ہوگی۔