ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ مالیاتی دور کے لیے پاکستان کی 3.7 فیصد شرحِ نمو ملکی افرادی قوت کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لحاظ سے ناکافی ہے۔ اگرچہ مالیاتی حکام کا اصرار ہے کہ معاشی اشاریے استحکام کی طرف گامزن ہیں، تاہم آزاد ماہرین کا اصرار ہے کہ بے روزگاری میں کمی کے لیے شرحِ نمو کا پانچ فیصد سے تجاوز کرنا ضروری ہے۔

یہ بحث اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے معیشت کے مستقبل کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی توقعات کے بعد شدت اختیار کر گئی ہے۔ مرکزی بینک کے حکام نے معیشت کو پائیداری کی طرف منتقل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور پیشگوئی کی ہے کہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہے گی۔

3.7 فیصد گروتھ عام آدمی کے لیے ناکافی کیوں ہے؟

بجلی کے بلند بلوں اور مہنگائی کی چکی میں پِستے ہوئے عام پاکستانی کے لیے معاشی استحکام کے یہ اعداد و شمار روزمرہ کی زندگی میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لاتے۔ ماہرین نشاندہی کرتے ہیں کہ چار فیصد سے کم شرحِ نمو آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ جب معیشت ساڑھے تین سے چار فیصد کی رفتار سے بڑھے گی تو روزگار کے باقاعدہ مواقع محدود رہیں گے۔

صنعتی تنظیموں نے بارہا اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مہنگا قرض اور بھاری ٹیکس کا نظام مینوفیکچرنگ کے شعبے کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے۔ جب تک سستی توانائی اور کم سود پر قرض دستیاب نہیں ہوں گے، فیکٹریاں اپنی پیداواری صلاحیت کو نہیں بڑھا سکتیں۔

اسٹیٹ بینک کا موقف اور پائیداری کی جانب منتقلی

مرکری بینک کی قیادت نے معاشی استحکام کا دفاع کرتے ہوئے حالیہ مہینوں میں کیے جانے والے مشکل فیصلوں کا حوالہ دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے حال ہی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ معیشت بیرونی دباؤ سے نکل کر ساختیاتی استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

حکام کی جانب سے پیش کیے جانے والے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- اسٹیٹ بینک کی جانب سے موجودہ سال کے لیے جی ڈی پی گروتھ 3.5 سے 4.5 فیصد متوقع ہے۔
- مہنگائی میں کمی کے بعد مانیٹری پالیسی میں نرمی کا مرحلہ وار آغاز۔
- بیرونی سرمائے اور قرضوں کی آمد سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری۔
- بین الاقوامی کرنسیوں کے مقابلے میں ملکی زر مبادلہ کے نرخوں میں استحکام۔

عام شہری پر اس کا کیا اثر پڑے گا؟

اگر آپ چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہیں یا گھریلو اخراجات سنبھال رہے ہیں، تو اس معاشی منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ شرحِ سود میں آنے والے مہینوں میں بتدریج کمی متوقع ہے، تاہم عام صارف کو اس کا ریلیف ملنے میں وقت لگے گا۔ گاڑیوں، گھروں اور کاروبار کے لیے قرضے اس وقت سستے ہوں گے جب مہنگائی کی شرح مسلسل کم ہوگی۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

مانیٹری پالیسی کمیٹی کے آئندہ فیصلوں اور شرحِ سود میں تبدیلیوں پر گہری نظر رکھیں۔ اس کے علاوہ وفاقی بورڈ آف رونیو (FBR) کے ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے دوروں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کیا معیشت بحران کا شکار ہوئے بغیر اس دائرے میں آگے بڑھ سکتی ہے۔