الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پنجاب میں طویل عرصے سے التوا کا شکار punjab local govt elections کا حتمی شیڈول طے کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو 20 اگست کو اسلام آباد طلب کر لیا ہے۔
صوبائی انتظامیہ کو بھیجے گئے باضابطہ مراسلے میں الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری پنجاب اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سینئر حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والے اہم مشاورت اجلاس میں شرکت کریں۔ اس اجلاس کا مقصد ان قانونی، انتظامی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو دور کرنا ہے جن کی وجہ سے صوبے بھر میں منتخب بلدیاتی نمائندے سالہا سال سے اپنے عہدوں سے محروم ہیں۔
اہم نکات ایک نظر میں
- اجلاس کی تاریخ: 20 اگست
- میزبان: الیکشن کمیشن آف پاکستان، اسلام آباد
- مدعو حکام: چیف سیکرٹری پنجاب، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، اور صوبائی الیکشن حکام
- بنیادی ایجنڈا: پنجاب کے بلدیاتی اداروں کے لیے پولنگ کی تاریخ اور آپریشنل شیڈول کا تعین
- موجودہ صورتحال: پنجاب میں بلدیاتی ادارے تحلیل ہیں اور انتظامی امور بیوروکریٹک ایڈمنسٹریٹرز کے پاس ہیں
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں مسلسل تاخیر کی وجوہات
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سیاسی تبدیلیوں، بار بار کی قانونی ترمیمات اور حد بندیوں کی وجہ سے سالہا سال سے التوا کا شکار ہیں۔ سابقہ بلدیاتی کونسلوں کی مدت سالوں پہلے ختم ہو چکی تھی، لیکن مسلسل انے والی صوبائی حکومتوں نے لوکل گورنمنٹ قوانین میں تبدیلیاں کیں، یونین کونسلوں کا ڈھانچہ بدلا اور انتخابی حدود کو ازسرنو ترتیب دیا۔
لاہور میں جب بھی صوبائی حکومت بدلی، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں نئی ترمیم لائی گئی۔ ان قانون سازی کی تبدیلیوں کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو بار بار حد بندیوں کا عمل نئے سرے سے شروع کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ، جدید مردم شماری کے اعداد و شمار، فنڈز کی عدم فراہمی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا عذر تراش کر انتخابات کو موخر کیا جاتا رہا۔
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 140-اے کے تحت صوبے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ لوکل گورنمنٹ کا نظام قائم کریں اور سیاسی، انتظامی و مالیاتی اختیارات منتخب نمائندوں کو منتقل کریں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جلد انتخابات کرانے کی ہدایات کے باوجود پنجاب کے 36 اضلاع میں بلدیاتی کونسلیں غیر فعال ہیں۔
حد بندیاں، قانون سازی اور سیکیورٹی چیلنجز
20 اگست کو الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کے درمیان ہونے والے اجلاس میں تین اہم امور پر بات چیت ہوگی:
- انتخابی قوانین کی حتمی منظوری: صوبائی حکومت کو واضح کرنا ہوگا کہ بلدیاتی انتخابات کس قانون کے تحت ہوں گے اور پارٹی یا غیر پارٹی بنیادوں پر الیکشن کے قواعد حتمی ہیں یا نہیں۔
- حد بندیوں کی تکمیل: الیکشن کمیشن کو بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور پولنگ اسٹیشنوں کے قیام سے قبل سرکاری مردم شماری کے مطابق حتمی بلدیاتی حدود کی ضرورت ہے۔
- مالی اور سیکیورٹی ضمانت: کمیشن کو الیکشن کے انتظامات کے لیے فنڈز اور پولنگ اسٹیشنوں کی سیکیورٹی کے لیے پولیس و پیرامیلیٹری فورسز کی فراہمی کی ٹھوس یقین دہانی درکار ہے۔
بلدیاتی نمائندوں کی عدم موجودگی سے عوام پر کیا اثر پڑتا ہے؟
لاہور، راولپنڈی، ملتان یا فیصل آباد کے عام شہری کے لیے منتخب بلدیاتی نمائندوں کی عدم موجودگی براہ راست ان کے روزمرہ مسائل کو متاثر کرتی ہے۔ اس وقت سرکاری افسران اور نامزد ایڈمنسٹریٹرز بلدیاتی کارپوریشنوں اور ضلع کونسلوں کا نظام چلا رہے ہیں۔
مقامی کونسلرز نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو درج ذیل مسائل کا سامنا ہے:
- بنیادی سہولیات: اسٹریٹ لائٹس کی خرابی، سیوریج لائنوں کے مسائل اور کوڑا کرکٹ کی عدم منتقلی۔
- انتظامی تاخیر: پیدائش، وفات، نکاح اور طلاق کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مشکلات۔
- ترقیاتی کام: محلے کی سطح پر گلیوں کی پختگی، نالیوں کی مرمت اور پارکوں کی دیکھ بھال میں عدم توجہی۔
ووٹ کی تصدیق اور اندراج کیسے کریں؟
انتخابات کی تاریخ کے قریب آتے ہی پنجاب کے شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ووٹ کے اندراج کی تصدیق کر لیں:
- ایس ایم ایس کے ذریعے تصدیق: اپنا 13 ہندسوں کا قومی شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 8300 پر ایس ایم ایس کریں۔ آپ کو جواب میں اپنے انتخابی علاقے، بلاک کوڈ اور ووٹ کی تفصیلات موصول ہو جائیں گی۔
- معلومات کی درستگی: اگر آپ کا پتہ یا انتخابی علاقہ غلط درج ہے تو الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستیں حتمی طور پر منجمد کرنے سے قبل اپنے مقامی ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کے دفتر سے رابطہ کر کے درستگی کا فارم جمع کروائیں۔
- شناختی کارڈ کی تجدید: نادرا سے جاری کردہ شناختی کارڈ کی تاریخ تنسیخ چیک کریں۔ پولنگ کے دن اصل اور فعال شناختی کارڈ لازمی ہے۔
20 اگست کے اجلاس سے کیا توقع رکھی جائے؟
اب تمام تر توجہ 20 اگست کو اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس پر مرکوز ہے۔ اس اجلاس کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے جس میں بتایا جائے گا کہ آیا پنجاب حکومت نے کوئی واضح منصوبہ پیش کیا ہے یا نہیں۔
اگر اجلاس میں اتفاقِ رائے ہو جاتا ہے تو الیکشن کمیشن چند ہفتوں کے اندر نامزدگی کاغذات جمع کرانے، ان کی چھان بین اور پولنگ کی حتمی تاریخ پر مشتمل تفصیلی شیڈول کا اعلان کر سکتا ہے۔ شہری مزید معلومات کے لیے الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ ecp.gov.pk سے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔
