الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے الیکشن رولز 2017 میں ترمیم کی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد اراکین اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے گئے اثاثوں اور واجبات کے بیانات کی براہ راست جانچ پڑتال کرنا ہے۔ اس نئی پیشرفت کے تحت، انتخابی ادارے کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ قومی اسمبلی اور صوبائی مقننہ کے ارکان کے جمع کردہ مالیاتی گوشواروں پر براہ راست وضاحت طلب کر سکے۔ اس اقدام کا مقصد سیاسی شخصیات کی جانب سے ظاہر کردہ دولت، جائیدادوں اور بینک ہولڈنگز کی درستگی کو یقینی بنانا ہے۔
اس کڑی نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن ملک بھر میں کام کرنے والے مالیاتی اداروں اور بینکوں سے براہ راست تفصیلات طلب کر سکے گا۔ روایتی طور پر پارلیمنٹرینز ہر سال 30 جون تک اپنے مالیاتی گوشوارے جمع کراتے ہیں، تاہم ناقدین اور سول سوسائٹی کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہے کہ ان دستاویزات کی اس طرح سے جانچ نہیں کی جاتی جس سے چھپائی گئی دولت یا غیر معمولی اثاثوں کا پتہ چل سکے۔ بینکنگ ریکارڈز کی براہ راست جانچ کے اختیارات حاصل ہونے سے اسلام آباد میں احتساب کے نظام کو مضبوط کرنے میں مدد ملے گی۔
اہم تفصیلات اور ڈیڈ لائن
- تجویز: الیکشن رولز 2017 میں ترمیم تاکہ اثاثوں کی براہ راست تصدیق کی جا سکے۔
- نشانہ: قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان۔
- نیا طریقہ کار: مالیاتی اداروں سے براہ راست ریکارڈ طلب کرنے کا اختیار۔
- آراء دینے کی آخری تاریخ: 15 اگست 2026۔
- آفیشل ویب سائٹ: متعلقہ نوٹسز اور ڈرافٹ رولز کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ ملاحظہ کریں۔
الیکشن کمیشن کو ان اختیارات کی ضرورت کیوں ہے؟
سالوں سے عام شہری یہ سوال کرتے آئے ہیں کہ منتخب نمائندے کس طرح اتنے بڑے اثاثے بناتے ہیں جو عام اقتصادی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن پہلے ان سالانہ بیانات کو بغیر کسی گہری جانچ کے قبول کر لیتا تھا جب تک کوئی باضابطہ شکایت نہ کی جائے، لیکن اب نئے قوانین کے تحت ادارہ خود فعال کردار ادا کرے گا۔ اگر یہ ترامیم حتمی شکل اختیار کر لیتی ہیں تو انتخابی ادارہ صرف دستاویزات جمع کرنے والا نہیں بلکہ ایک تفتیشی ادارے کے طور پر کام کرے گا۔
قارئین کے لیے ہدایات اور آگے کیا ہوگا؟
اگر آپ قانون کے ماہر ہیں یا انتخابی اصلاحات میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو آپ 15 اگست 2026 سے پہلے ای سی پی کے پورٹل پر جاکر اس تجویز پر اپنی آراء پیش کر سکتے ہیں۔ عام قاری کے لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ قومی اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتیں اس اقدام پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا سیاستدان ای سی پی کے ان اختیارات کو بغیر کسی کمزوری کے منظور کرتے ہیں یا نہیں۔
