ایدھی فاؤنڈیشن میں 65 لاکھ روپے کی ڈکیتی کے واقعے کے بعد کراچی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ فاؤنڈیشن کے رضاکاروں اور عملے نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکام سے واقعے میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ڈکیتی پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم کے وسائل پر ایک بڑا حملہ ہے، جس سے ان کی فلاحی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن ڈکیتی: مطالبات اور کارروائی

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے سندھ حکومت کو سخت پیغام دیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور ملزمان کو گرفتار کروا کر لوٹی گئی رقم کی واپسی یقینی بنائیں۔ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ جو لوگ انسانیت کی خدمت کرنے والی تنظیم کو نشانہ بناتے ہیں، وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈکیتوں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائے۔

فلاحی کاموں پر اثرات

65 لاکھ روپے کی چوری صرف مالی نقصان نہیں بلکہ ایدھی فاؤنڈیشن کی آپریشنل صلاحیت کے لیے ایک دھچکا ہے۔ یہ تنظیم عوامی چندے کے ذریعے ایمبولینس سروس، یتیم خانے اور سرد خانے چلاتی ہے۔ اس رقم کے ضائع ہونے سے کراچی میں ہنگامی طبی امداد کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں فلاحی اداروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

شہریوں کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کے پاس اس واقعے کے حوالے سے کوئی بھی معلومات ہیں تو فوری طور پر قریبی تھانے یا ایدھی فاؤنڈیشن کے ہیڈ آفس سے رابطہ کریں۔ ایسے وقت میں جب فلاحی ادارے بحران کا شکار ہوں، شہریوں کو ان کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ مستحقین تک پہنچنے والی امداد کا سلسلہ نہ ٹوٹے۔

آگے کیا ہوگا؟

اب تمام تر نظریں سندھ پولیس اور محکمہ داخلہ پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ کتنی جلدی اس کیس کو حل کرتے ہیں۔ عوام کو اگلے چند دنوں میں پیش رفت کی توقع ہے۔ اگر حکومت لوٹی گئی رقم برآمد کرنے میں ناکام رہتی ہے تو فلاحی تنظیم نے مزید احتجاجی لائحہ عمل اپنانے کا عندیہ دیا ہے تاکہ عوامی فلاح کے اداروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔