فاسٹ بولر احسان اللہ نے قومی ٹیم میں واپسی کے حوالے سے پی سی بی حکام کے رویے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ احسان اللہ کا کہنا ہے کہ وہ فٹنس بحال کرنے کے باوجود پی سی بی چیئرمین اور چیف سلیکٹر عاقب جاوید سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا کیریئر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
احسان اللہ پی سی بی کمیونیکیشن گیپ
احسان اللہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن پی سی بی کی جانب سے انہیں کوئی جواب نہیں مل رہا۔ انجری کے بعد بحالی کے عمل سے گزرنے والے اس نوجوان فاسٹ بولر کو امید تھی کہ بورڈ کی جانب سے انہیں واپسی کا موقع ملے گا، تاہم اعلیٰ حکام کی خاموشی نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
- احسان اللہ کو کہنی کی انجری کے بعد طویل عرصہ کرکٹ سے دور رہنا پڑا۔
- انہوں نے لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں اپنی بحالی کا عمل مکمل کیا ہے۔
- کھلاڑی کا دعویٰ ہے کہ وہ مکمل طور پر فٹ ہیں اور قومی ٹیم میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔
مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟
کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ پی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں کے ساتھ رابطے کا فقدان ٹیلنٹ کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے۔ احسان اللہ جیسے فاسٹ بولر، جو اپنی رفتار کے لیے مشہور ہیں، کو نظر انداز کرنا ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا چیف سلیکٹر عاقب جاوید اس معاملے پر کوئی ردعمل دیتے ہیں یا نہیں۔
پی سی بی کی تازہ ترین اپ ڈیٹس کیسے جانیں؟
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کی فٹنس اور سلیکشن کے حوالے سے باضابطہ اعلانات کے لیے آپ پی سی بی کی آفیشل ویب سائٹ pcb.com.pk وزٹ کر سکتے ہیں۔ ٹیم میں تبدیلیوں اور انجرڈ کھلاڑیوں کی واپسی کے بارے میں مستند معلومات کے لیے پی سی بی کے میڈیا ریلیز سیکشن کو فالو کرنا سب سے بہتر ذریعہ ہے۔
