الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے الیکشن رولز 2017 کی ایک اہم شق میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مجوزہ ترمیم کا باضابطہ مسودہ جاری کر دیا ہے۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق ارکان اسمبلی کی جانب سے جمع کرائے جانے والے اثاثوں اور واجبات کے گوشواروں میں کسی بھی قسم کے ابہام یا تضاد کی صورت میں الیکشن کمیشن کے جانچ پڑتال کے اختیارات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد پارلیمنٹیرینز کے مالیاتی گوشواروں کی سخت جانچ پڑتال کو یقینی بنانا اور قانونی خامیوں کو ختم کرنا ہے۔
اسلام آباد کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ منتخب نمائندوں کے اثاثوں میں شفافیت ہمیشہ ایک اہم موضوع رہی ہے۔ ان نئے قوانین کے ذریعے الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹیوں کو واضح قانونی اختیار مل جائے گا کہ وہ غیر واضح گوشواروں پر کھل کر سوالات اٹھا سکیں۔ عام شہری اور شفافیت کے لیے کام کرنے والے ادارے اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ارکانِ اسمبلی کی جانب سے جمع کروائے گئے فارمز میں جائیدادوں اور تجارتی حصص کی تفصیلات مبہم ہوتی ہیں۔
مجوزہ ترامیم کی تفصیلات
جاری کردہ مسودے کے مطابق اگر کسی رکنِ اسمبلی کے مالیاتی گوشواروں میں کوئی ابہام یا واضح تضاد پایا گیا تو متعلقہ اسکروٹنی ونگ کو سخت ہدایات جاری کی جائیں گی۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ ecp.gov.pk پر جاری ہونے والے اس مسودے میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
- الیکشن کمیشن کی جانب سے مجوزہ ترمیم کا باضابطہ مسودہ جاری کر دیا گیا ہے۔
- ارکان اسمبلی کے اثاثوں میں ابہام کی صورت میں اسکروٹنی کمیٹی کو اختیارات سونپ دیے گئے ہیں۔
- مالیاتی گوشواروں کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنایا جا رہا ہے۔
ان ترامیم کا بنیادی مقصد منتخب نمائندوں کو عوامی احتساب کے سامنے مزید جوابدہ بنانا ہے تاکہ وہ اپنی دولت اور اثاثوں کی درست تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں۔
ارکان اسمبلی اور احتساب پر اثرات
قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے لیے سالانہ اثاثوں کے گوشوارے جمع کرانا اب محض ایک رسمی کارروائی نہیں رہے گا۔ ان نئی ترامیم کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو دیے گئے ٹیکس گوشواروں اور الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے اثاثوں کے درمیان فرق پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تو پارلیمنٹیرینز کے لیے غیر واضح اعداد و شمار جمع کرانا ممکن نہیں رہے گا۔
قارئین کے لیے اگلا قدم
اگر آپ اس قانونی پیش رفت پر نظر رکھنا چاہتے ہیں تو الیکشن کمیشن کی آفیشل ویب سائٹ کا وزٹ کریں جہاں قانون سازی کے عمل اور عوامی آراء کے لیے مسودے دستیاب ہوتے ہیں۔ سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین مقررہ وقت میں ان ترامیم پر اپنی تجاویز پیش کر سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
اب یہ دیکھنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن اس مسودے کو باضابطہ قانون کی شکل کب دیتا ہے اور آنے والے مالیاتی سالوں میں ارکان اسمبلی کے اثاثوں کی جانچ پڑتال کتنی سخت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں آنے والے دنوں میں مزید نوٹیفیکیشنز متوقع ہیں۔
