پاکستان میں بجلی کے بلوں میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے کیونکہ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) نے صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے باضابطہ رجوع کر لیا ہے۔ کمپنی نے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2 ارب 35 کروڑ روپے اضافی وصول کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔

بجلی کے بلوں میں اضافے کا اثر

اگر نیپرا لیسکو کی اس درخواست کو منظور کر لیتی ہے تو لاہور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، قصور اور اوکاڑہ کے لاکھوں صارفین کے ماہانہ بجلی کے بلوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ یہ درخواست ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب شہری پہلے ہی شدید مہنگائی اور بجلی کے پہلے سے موجود بلند ٹیرف کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

ریگولیٹر کو جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، لیسکو اس رقم کو اپنے مالیاتی فرق کو پورا کرنے کے لیے صارفین سے وصول کرنا چاہتی ہے۔ ماضی میں اس طرح کی ایڈجسٹمنٹس کو فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ یا سہ ماہی ٹیرف ریویژن کے ذریعے صارفین کے بلوں میں شامل کیا جاتا رہا ہے، جس سے فی یونٹ قیمت میں فوری اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

فی الحال صارفین کے لیے کوئی فوری اقدام ممکن نہیں ہے جب تک کہ نیپرا اس پر باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ کر دے۔ تاہم، آپ کو اپنے آئندہ آنے والے بجلی کے بلوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ آپ نیپرا کی آفیشل ویب سائٹ nepra.org.pk پر جا کر ٹیرف درخواستوں کی صورتحال چیک کر سکتے ہیں۔

  • اپنے پچھلے بلوں کا ریکارڈ رکھیں تاکہ موجودہ ٹیرف اور نئے اضافے کا موازنہ کر سکیں۔
  • بجلی کی بچت کو یقینی بنائیں تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات کا اثر کم سے کم ہو۔
  • نیپرا کے فیصلوں پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ آیا ریگولیٹر نے مکمل رقم کی منظوری دی ہے یا نہیں۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

نیپرا اس درخواست پر عوامی سماعت کا انعقاد کرے گی۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور صنعتی نمائندے لیسکو کے دعووں پر اعتراض اٹھا سکتے ہیں۔ آپ کو اس سماعت کی تاریخ پر نظر رکھنی چاہیے جو قومی اخبارات اور نیپرا کے پورٹل پر شائع کی جائے گی۔ اگر ریگولیٹر اس اضافے کی منظوری دیتا ہے، تو نئی قیمتیں آئندہ ایک سے دو بلنگ سائیکلوں میں آپ کے بلوں پر لاگو ہو سکتی ہیں۔ حکومتی فیصلہ اس حوالے سے سب سے اہم ہوگا کہ آیا وہ اس ایڈجسٹمنٹ پر کوئی سبسڈی فراہم کرتی ہے یا نہیں۔