نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کراچی سمیت تمام تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے صارفین پر لاگو ہوگا۔

بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات

نیپرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمت میں 75 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) کی مد میں کیا گیا ہے۔ اگرچہ 75 پیسے کی رقم بظاہر کم معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کا اثر صارفین کے ماہانہ بلوں پر نمایاں ہوگا، خاص طور پر ان گھرانوں کے لیے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

یہ فیصلہ کے الیکٹرک سمیت ملک بھر کی تمام بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے صارفین پر لاگو ہوتا ہے۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا مقصد بجلی پیدا کرنے والے ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے ردوبدل کا بوجھ صارفین تک منتقل کرنا ہوتا ہے۔

آپ کے بل پر اثرات

ایک عام صارف جو ماہانہ 200 سے 300 یونٹ استعمال کرتا ہے، اس کے لیے یہ اضافہ بل کی مجموعی رقم میں اضافے کا باعث بنے گا۔ یاد رہے کہ بجلی کے بلوں میں فی یونٹ قیمت کے ساتھ ساتھ مختلف ٹیکسز اور سرچارجز بھی شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے معمولی اضافہ بھی حتمی بل میں کافی فرق ڈال دیتا ہے۔

صارفین کو کیا کرنا چاہیے؟

  1. اپنے پچھلے بجلی کے بلوں کا موازنہ کریں تاکہ آپ دیکھ سکیں کہ 'فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ' کی مد میں کتنی رقم کاٹی جا رہی ہے۔
  2. بجلی کی بچت کو یقینی بنائیں، خاص طور پر شام 6 بجے سے رات 10 بجے کے دوران جب بجلی کا استعمال عروج پر ہوتا ہے۔
  3. نیپرا کی سرکاری ویب سائٹ (nepra.org.pk) پر نظر رکھیں تاکہ آئندہ آنے والی قیمتوں کے تعین سے بروقت آگاہ رہ سکیں۔

مستقبل میں بجلی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ چونکہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ مہنگے ایندھن پر منحصر ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی براہ راست صارفین کی جیب پر اثر انداز ہوتی رہے گی۔ صارفین کو مشورہ ہے کہ وہ اپنے بجلی کے استعمال میں احتیاط برتیں تاکہ بڑھتے ہوئے بلوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔