پاکستان میں بجلی کے صارفین کو ملنے والا بڑا ریلیف ختم ہونے والا ہے، جس کے بعد آئندہ ماہ سے بجلی کی قیمت میں اضافہ ہونے کا قوی امکان پیدا ہو گیا ہے۔ جون 2026 سے صارفین کو فی یونٹ 1 روپے 99 پیسے کی جو رعایت دی جا رہی تھی، اب وہ ختم کی جا رہی ہے، جس کا براہ راست اثر عام آدمی کے بجٹ پر پڑے گا۔

بجلی کی قیمت میں اضافہ کیوں متوقع ہے؟

یہ ریلیف ایک عارضی اقدام تھا جسے اب واپس لیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک بھر کی بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (DISCOs) نے ریگولیٹری اتھارٹی کے پاس 23 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کی درخواست جمع کرا دی ہے۔ کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ بڑھتے ہوئے آپریشنل اخراجات اور ریونیو کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہے۔

صارفین کے بلوں پر اثرات

اگر نیپرا (NEPRA) نے تقسیم کار کمپنیوں کی ان تجاویز کو منظور کر لیا، تو صارفین کے ماہانہ بلوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ 1 روپے 99 پیسے فی یونٹ کی رعایت ختم ہونے اور نئے سرچارجز کے نفاذ سے بجلی کے بلوں میں بوجھ بڑھنا یقینی ہے۔

  • ریلیف کا خاتمہ: 1.99 روپے فی یونٹ کی رعایت کا دورانیہ ختم ہو چکا ہے۔
  • اضافی بوجھ: کمپنیوں نے 23 ارب روپے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کی درخواست دی ہے۔
  • نیپرا کا کردار: ریگولیٹری اتھارٹی ان درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے جس کے بعد حتمی نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

صارفین کیا کریں؟

موجودہ صورتحال میں صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے بجلی کے استعمال میں احتیاط برتیں اور غیر ضروری آلات کو بند رکھیں۔ بجلی کے نرخوں اور ٹیرف سے متعلق تازہ ترین معلومات کے لیے نیپرا کی آفیشل ویب سائٹ nepra.org.pk کو وقتاً فوقتاً چیک کرتے رہیں۔ آنے والے دنوں میں حکومت کی جانب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کے حوالے سے اعلانات پر بھی نظر رکھیں، کیونکہ یہ وہ عنصر ہے جو ہر ماہ آپ کے بل کو متاثر کرتا ہے۔