ایلन مسک نے 5 اگست کو اسپیس ایکس کے راکٹ کے چاند سے ٹکرانے کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو شیئر کی، جس نے کروڑوں ویوز حاصل کیے اس سے پہلے کہ پلیٹ فارم کے کمیونٹی نوٹس نے اس کی حقیقت واضح کی۔ یہ کلپ اصل میں ویلیو ٹینمنٹ نے تیار کیا تھا، جس میں ایک ڈرامائی قمری تصادم کو دکھایا گیا تھا جو اس مخصوص بصری شکل میں کبھی پیش نہیں آیا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ڈیجیٹل سمولیشن کو تیزی سے وائرل ہوتے دیکھا یہاں تک کہ فیکٹ چیکرز نے اس پر لیبل لگا دیا۔
اصل اسپیس ایکس قمری تصادم کا پس منظر
اگرچہ ٹیک ارب پتی کی طرف سے شیئر کی جانے والی وائرل کلپ ایک ڈیجیٹل تخلیق نکلی، لیکن اسپیس ایکس کے ہارڈویئر سے جڑا ایک حقیقی خلائی ملبے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اسپیس ایکس فیلکن 9 راکٹ کا چار ٹن وزنی ایک چھوڑا ہوا ٹکڑا بدھ کی صبح 5,400 میل فی گھنٹہ کی زبردست رفتار سے چاند سے ٹکرا گیا۔ ماہرین فلکیات نے اس بلڈنگ کے سائز جتنے راکٹ مرحلے کا مشاہدہ کیا جو ایک سال سے زیادہ عرصے تک گہرے خلا میں بے قابو گھومتا رہا تھا، سائنسدانوں کا تخمینہ ہے کہ اس تصادم سے چاند پر تقریباً 60 فٹ چوڑا گڑھا بن گیا ہے۔
آن لائن ڈیپ فیکس اور اے آئی سمولیشنز کی شناخت
پاکستان بھر کے ٹیکنالوجی کے شوقین افراد اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے جو خلا کی دنیا کی خبریں دیکھتے ہیں، یہ واقعہ ڈیجیٹل میڈیا کی تصدیق کے بڑھتے ہوئے چیلنج کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ بڑے فالوورز والے مشہور اکاؤنٹس بھی فلٹرز یا فیکٹ چیکرز کے آنے سے پہلے مصنوعی مواد کو پھیلا سکتے ہیں۔ جب خلائی نوعیت کے بڑے واقعات رونما ہوتے ہیں، تو ڈیجیٹل اینیمیشنز کو لائیو فوٹیج سمجھنے سے پہلے ناسا، ایسا، یا سرکاری اسپیس ایکس کے بیانات جیسے بنیادی ذرائع کی تصدیق کرنا بہت ضروری رہتا ہے۔
اب آپ کو کیا دیکھنا چاہیے
خلائی ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ تصدیقی رپورٹوں اور دوربین کی تصاویر پر نظر رکھیں جو چاند کی سطح پر اصل فیلکن 9 کے گڑھے کے مقام کی تصدیق کرتی ہیں۔ جیسے جیسے تجارتی خلائی تحقیق میں اضافہ ہو رہا ہے، خلائی ملبے اور کچرے کے ٹھکانے لگانے کا معاملہ بین الاقوامی سائنسی فورمز میں بحث کا اہم نکتہ بنتا جائے گا۔ اس بات پر بھی نظر رکھیں کہ بڑے سوشل نیٹ ورکس بریکنگ سائنس نیوز کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ سمولیشنز کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں۔
