صوبائی حکام نے مون سون الرٹ پنجاب بھر کے رہائشیوں کے لیے جاری کر دیا ہے کیونکہ موسلادھار بارشوں کا چوتھا سپیل صوبے کے اہم شہری مراکز اور زرعی علاقوں میں داخل ہو چکا ہے۔
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے تمام 36 اضلاع کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جبکہ بلدیاتی اداروں، ریسکیو ٹیموں اور واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) کو ہدایت کی ہے کہ وہ نشیبی شہری علاقوں میں بھاری مشینری تعینات کریں۔ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کا سلسلہ ویک اینڈ تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس سے ندی نالوں میں طغیانی اور مرکزی شاہراہوں پر پانی جمع ہونے کا شدید خطرہ ہے۔
لاہور، راولپنڈی، گجرانوالہ، فیصل آباد اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں پہلے ہی مختلف مقامات پر پانی جمع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ شہری نکاسی آب کے نظام کی ایمرجنسی بنیادوں پر صفائی کی جا رہی ہے تاکہ بارش کے دباؤ کو سنبھالا جا سکے۔
بڑے شہروں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق اس چوتھے سپیل میں نمی کا تناسب زیادہ ہے، جس سے پہلے سے سیراب زمین پر پانی تیزی سے جمع ہو رہا ہے۔ لاہور میں نہر روڈ، گلبرگ اور فیروز پور روڈ کے زیریں راستوں میں اگر مختصر وقت کے دوران 50 ملی میٹر سے زائد بارش ہوتی ہے تو ڈوبنے کا اندیشہ ہے۔
لاہور اور راولپنڈی میں واسا کے حکام نے تمام عملے کی چھٹیاں منسوخ کر کے ایمرجنسی کنٹرول رومز قائم کر دیے ہیں۔ راولپنڈی میں نالہ لئی میں پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جہاں مارگلہ کی پہاڑیوں سے آنے والا طغیانی کا پانی نشیبی علاقوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
بارش کے ساتھ بجلی کی فراہمی میں تعطل کا سامنا بھی شہریوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ لیسکو، فیسکو اور آئیسکو کے فیڈرز ٹرپ ہونے کی وجہ سے کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے، جس سے پانی کی فراہمی اور عام زندگی شدید متاثر ہوتی ہے۔
زرعی علاقوں اور دریاؤ میں پانی کی صورتحال
شہروں سے ہٹ کر پنجاب کے زرعی خطے میں بھی بارش کے اثرات نمایاں ہیں۔ جہاں شمالی اور وسطی پنجاب میں دھان کی فصل کو اس بارش سے فائدے کی امید ہے، وہیں ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان کے جنوبی اضلاع میں کپاس کے کاشتکاروں کو کھڑے پانی سے نقصان کا خدشہ ہے۔
شمالی پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ارسا اور آبپاشی کے مقامی شعبے مرالہ، منگلا اور تربیلا میں پانی کی آمد پر نظر رکھے ہوئے ہیں:
- چناب اور جہلم کے ملحقہ علاقوں میں مقامی بارشوں کی صورت میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکن ہے۔
- پوٹھوہار کے موسمی نالوں بشمول سواں اور ہارو میں اچانک طغیانی سے دیہی رابطے کی سڑکیں کٹ سکتی ہیں۔
- ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پلوں اور بندوں کے قریب حفاظتی اقدامات مکمل رکھیں۔
بارش کے دوران شہریوں کے لیے ضروری ہدایات
شدید بارشوں اور مون سون الرٹ پنجاب کے دوران کچھ بنیادی باتوں پر عمل کر کے آپ اپنے گھر اور گاڑی کو نقصان سے بچا سکتے ہیں:
- پانی سے بھرے انڈر پاسز میں جانے سے گریز کریں: گاڑی کو گہرے پانی میں ڈالنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ انجن میں پانی جانے سے وہ فوری طور پر بند اور تباہ ہو سکتا ہے۔
- بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے دور رہیں: بارش کے دنوں میں کرنٹ لگنے کے واقعات عام ہو جاتے ہیں، اس لیے گلیوں میں لٹکی تاروں سے فاصلہ رکھیں۔
- چھتوں کے پرنالے صاف رکھیں: شدید بارش شروع ہونے سے پہلے گھر کی چھت کی نکاسی کے سوراخوں کو چیک کریں تاکہ پانی جمع ہو کر چھت کو نقصان نہ پہنچائے۔
- ایمرجنسی لائٹس اور فون چارج رکھیں: طویل پاور کٹ سے نمٹنے کے لیے اپنے موبائل اور لائٹس پہلے سے چارج رکھیں۔
- ایمرجنسی نمبرز یاد رکھیں: ریسکیو 1122 اور واسا کے ہیلپ لائن نمبرز اپنے فون میں محفوظ رکھیں۔
آنے والے دنوں میں کیا توقع رکھیں؟
اگلے 48 سے 72 گھنٹوں کے دوران محکمہ موسمیات کی تازہ ترین اطلاعات اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر نظر رکھیں۔ نالہ لئی اور بڑے ڈیموں میں پانی کے اخراج کی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں۔
اگر بارش کا سلسلہ مزید تیز ہوتا ہے تو بعض اضلاع میں سکولوں کے اوقات یا تجارتی سرگرمیوں میں عارضی تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ موٹروے (M-2, M-3, M-4) پر سفر کرنے والے ڈرائیورز سفر شروع کرنے سے پہلے موٹروے پولیس کی ہیلپ لائن 130 سے سڑک کی صورتحال لازمی معلوم کریں۔
