انگلینڈ ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دنیا کے ان اولین ممالک میں شامل ہونے کے قریب ہے جہاں اس بیماری کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ پیشرفت جگر کے مہلک امراض کے تدارک میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتی ہے۔

ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کی حکمت عملی

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، انگلینڈ نے ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی بروقت تشخیص اور جدید علاج تک رسائی کو یقینی بنا کر انفیکشن کی شرح کو انتہائی کم سطح پر پہنچا دیا ہے۔ وہاں کی حکومت نے اینٹی وائرل ادویات کو عام شہریوں کے لیے قابلِ رسائی بنایا ہے، جس سے اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی ہے۔

پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے انگلینڈ کا ماڈل ہمارے لیے سیکھنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ وہاں کا نظام اس بات پر زور دیتا ہے کہ بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اسکریننگ اور سستی ادویات کی فراہمی ناگزیر ہے۔

بروقت تشخیص کیوں ضروری ہے؟

  • عوامی اسکریننگ: بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کا انعقاد کیا گیا ہے۔
  • جدید ادویات: ڈائریکٹ ایکٹنگ اینٹی وائرل ادویات نے اس مرض کے علاج کو سادہ اور مؤثر بنا دیا ہے۔
  • کمیونٹی ہیلتھ: وائرس کو صرف ہسپتال تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عوامی صحت کا اہم ترین مسئلہ قرار دے کر اس پر قابو پایا گیا ہے۔

مریضوں کے لیے اہم مشورہ

اگر آپ یا آپ کا کوئی پیارا ہیپاٹائٹس سی کے بارے میں فکر مند ہے، تو سب سے اہم قدم باقاعدگی سے اسکریننگ کروانا ہے۔ پاکستان میں بھی مختلف سرکاری اور فلاحی ادارے ہیپاٹائٹس کی اسکریننگ کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ انگلینڈ کی کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر بروقت علاج شروع کیا جائے تو اس مرض سے مکمل نجات ممکن ہے۔

مستقبل پر نظر

عالمی ادارہ صحت (WHO) انگلینڈ کے اس تجربے کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ اسے دیگر ممالک میں بھی لاگو کیا جا سکے۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ وہ اسی ماڈل کو اپناتے ہوئے اپنی ہیلتھ پالیسیوں میں اسکریننگ اور علاج کے عمل کو مزید تیز کرے۔ آنے والے مہینوں میں اس کے حتمی نتائج عالمی سطح پر ایک نئی مثال قائم کریں گے۔