ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد اسلام آباد میں انگلش تھیٹر کی واپسی ہو رہی ہے، جو دارالحکومت کے فنونِ لطیفہ کے منظرنامے کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔ فورتھ وال اسٹوڈیوز (Fourth Wall Studios) پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA) کے بڑے اسٹیج پر ایک نئی پروڈکشن پیش کر رہا ہے، جس سے اس مقام پر طویل عرصے سے جاری تعطل ختم ہو جائے گا۔

کارکردگی کی تاریخیں اور مقام

آئندہ شوز 21 اگست، 22 اگست اور 23 اگست کو شیڈول کیے گئے ہیں۔ یہ سلسلہ اسلام آباد کلب میں کامیاب اور ہاؤس فل شوز کے بعد شروع ہو رہا ہے، جہاں اس پروڈکشن کو مقامی شائقین کی جانب سے بے حد سراہا گیا تھا۔ جڑواں شہروں کے تھیٹر کے شائقین پی این سی اے جیسے بڑے مقام پر پیشہ ورانہ معیار کی انگلش پروڈکشن کا انتظار کر رہے تھے، اور یہ ایونٹ اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش ہے۔

  • تاریخیں: 21، 22 اور 23 اگست
  • مقام: پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (PNCA)، اسلام آباد
  • منتظم: فورتھ وال اسٹوڈیوز

یہ اسلام آباد کے لیے کیوں اہم ہے؟

دس سال سے زائد عرصے تک، پی این سی اے کا اسٹیج بنیادی طور پر روایتی، اردو یا علاقائی زبان کے ڈراموں تک محدود رہا ہے۔ پی این سی اے میں انگلش تھیٹر کی واپسی شہر کے ثقافتی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسلام آباد کلب میں پہلے ہی مقبولیت حاصل کرنے والی اس پروڈکشن کو یہاں لا کر، منتظمین دارالحکومت میں عصری کہانیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

آپ کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ ان شوز میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، تو ٹکٹوں کی تفصیلات اور شو کے اوقات کے لیے فورتھ وال اسٹوڈیوز کے آفیشل سوشل میڈیا پیجز پر نظر رکھیں۔ چونکہ یہ پروڈکشن پہلے ہی ہاؤس فل جا چکی ہے، اس لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ ٹکٹ دستیاب ہوتے ہی اپنی نشستیں بک کروا لیں۔ آپ کو ایونٹ کی تاریخوں کے لیے پارکنگ یا داخلے کی ہدایات جاننے کے لیے پی این سی اے کی آفیشل ویب سائٹ بھی چیک کرنی چاہیے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ سلسلہ پی این سی اے میں انگلش زبان کے پروگراموں کی مستقل واپسی کا باعث بنے گا یا نہیں۔ اگر اگست میں ہونے والے یہ تین روزہ شوز بڑی تعداد میں شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، تو یہ مستقبل میں دارالحکومت میں مزید بین الاقوامی طرز کے تھیٹر ڈراموں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ مقامی فنکار اور ہدایت کار اس ایونٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تھیٹر کی تجارتی کامیابی کا اندازہ لگایا جا سکے۔