بھارت کا بگڑتا ہوا قدرتی ماحول بین الاقوامی برادری کے لیے ایک خطرناک مثال بنتا جا رہا ہے جہاں بے قابو آبادی کا دباؤ ملک کو ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی طرف لے جا رہا ہے۔ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی، بے ہنگم شہر کاری، صنعتی اخراج اور ناکافی کچرے کے انتظام نے قدرتی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جنوبی ایشیا کے مبصرین کے مطابق، پائیدار بنیادی ڈھانچے کے بغیر تیز رفتار ترقی نے اس پورے خطے کو ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

بھارتی ماحولیاتی بحران کا پھیلاؤ

نئی دہلی اور ممبئی جیسے بڑے شہری مراکز میں روزانہ پیدا ہونے والا کچرا میونسپل سسٹمز کی صلاحیت سے باہر ہو چکا ہے۔ گنگا اور جمنا جیسے دریاؤں میں صنعتی فضلہ اور بغیر علاج کا نکاسی آب کا پانی شامل ہونے سے پانی کا معیار تباہ ہو چکا ہے۔ سال کے کئی مہینوں تک اسموگ شمالی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں رکھتی ہے جہاں ہوا کا معیار خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح میں کمی اور سرسبز علاقوں کا خاتمہ اس کمزور ماحولیاتی نظام پر مزید بوجھ ڈال رہا ہے۔

علاقائی ماحولیاتی اثرات

ماحولیاتی تنزل کبھی بھی ملکی سرحدوں تک محدود نہیں رہتا، یہی وجہ ہے کہ یہ خطے کے لیے ایک مشترکہ چیلنج بن چکا ہے۔ بھاری صنعتی آلودگی اور فصلوں کی باقیات جلانے کے رجحانات سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے جو پڑوسی ملکوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ہوا کے دباؤ کے باعث زرات فضا میں سفر کرتے ہیں جس سے لاہور سے لے کر ڈھاکہ تک صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف علاقائی تعاون کی کمی کی وجہ سے کروڑوں افراد خطرے کی زد میں ہیں۔

جنوبی ایشیا کے لیے اس کے معنی

خطے کے عام شہریوں کے لیے ماحولیاتی نظام کی یہ بربادی موسمیاتی خطرات کے حوالے سے ایک واضح انتباہ ہے۔ پانی کی قلت، شدید گرمی کی لہریں اور غیر یقینی مون سون پیٹرنز زرعی پیداوار اور خوراک کی حفاظت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ حکومتوں پر شدید دباؤ ہے کہ وسائل کے مکمل خاتمے سے پہلے موثر موسمیاتی حکمت عملی اپنائی جائے۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا

آنے والے بین الاقوامی موسمیاتی اجلاسوں اور علاقائی ماحولیاتی رپورٹس پر نظر رکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ پالیسی کی سطح پر کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا جنوبی ایشیا کے شہری مراکز ہنگامی اقدامات کرتے ہیں یا بگڑتے ہوئے حالات سخت پروٹوکولز کا تقاضا کرتے ہیں۔