مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں سیکورٹی خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں دوبارہ بڑے اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان بحری راستوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد عالمی توانائی کے اداروں نے نئے الرٹ جاری کر دیے ہیں۔ پاکستان اپنی تیل کی مجموعی ضرورت کا 80 فیصد سے زائد حصہ پرائمری برآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں ہونے والا ہر اضافہ براہ راست کراچی سے پشاور تک عوام کی جیب پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اہم نکات اور معاشی اعداد و شمار
- برینٹ خام تیل کا نیا تخمینہ: عالمی سطح پر تیل کی قیمت 81.91 ڈالر سے بڑھ کر 86.81 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی توقع ہے۔
- سپلائی کا حساس ترین نقطہ: آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے کل تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔
- مقامی قیمتوں کا طریقہ کار: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) ہر ماہ کی 1 اور 16 تاریخ کو قیمتوں کا نظر ثانی جائزہ لیتی ہے۔
- سفارتی کوششیں: پاکستان اور قطر کشیدگی کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر مشترکہ کردار ادا کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے خطرات اور عالمی منڈی پر اثرات
امریکی توانائی کی معلومات کی انتظامیہ (ای آئی اے) کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں موجودہ صورتحال عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ عمان اور ایران کے درمیان واقع یہ تنگ سمندری راستہ ایشیائی منڈیوں کو تیل فراہم کرنے والی سب سے اہم شاہراہ ہے۔
اس صورتحال کے باعث برینٹ کروڈ کی اوسط قیمت کا سابقہ تخمینہ 81.91 ڈالر فی بیرل تبدیل کر کے 86.81 ڈالر فی بیرل کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ عالمی منڈی کے لیے پانچ ڈالر کا اضافہ معمولی معلوم ہوتا ہے، لیکن پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ زرمبادلہ کے ذخائر پر اربوں روپے کے اضافے کے مترادف ہے۔
مقامی معیشت پر تیل کی قیمتوں کا اثر
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیژل کی قیمتیں بین الاقوامی مصنوعات کی قیمت اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو دیکھ کر مقرر کی جاتی ہیں۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو اوگرا اس کا بوجھ براہ راست صارفین پر منتقل کرتا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیژل کی قیمت بڑھنے سے ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کے کرائے فوری طور پر بڑھ جاتے ہیں۔ قومی شاہراہوں کے ذریعے سبزیوں، پھلوں، گندم اور دیگر بنیادی اشیائے خورونوش کی نقل و حمل مہنگی ہونے سے شہروں میں روزمرہ اشیا کے دام خودبخود بڑھ جاتے ہیں۔
بجلی کے بلوں اور مہنگائی میں اضافہ
تیل کی قیمتوں کا اثر صرف پیٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان میں حرارتی بجلی (تھرمل پاور) کی پیداوار کے لیے اب بھی فرنیس آئل اور ایل این جی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے بجلی بنانے والی کمپنیوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ نیپرا (NEPRA) کے طریقہ کار کے تحت یہ اخراجات دو سے تین ماہ بعد فیوئل کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی صورت میں شہریوں کے ماہانہ بجلی کے بلوں میں شامل کر دیے جاتے ہیں۔
پاکستان اور قطر کا سفارتی کردار
خطے میں کسی بھی نئے تنازعے کے معاشی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان اور قطر نے امن کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلام آباد واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ رابطہ قائم رکھے ہوئے ہے تاکہ کشیدگی کو ختم کیا جا سکے۔
ایران کا ہمسایہ ہونے کے ناطے پاکستان کسی بھی علاقائی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس سے نہ صرف سرحد پار تجارت اور سمندری مال برداری کے کرائے متاثر ہوتے ہیں بلکہ ملکی معیشت پر غیر معمولی بوجھ پڑتا ہے۔
عوام کے لیے عملی تدابیر
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں سست روی کے امکانات کم ہونے کی وجہ سے عام شہری درج ذیل تدابیر اختیار کر سکتے ہیں:
- سفر کی منصوبہ بندی: غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور روزمرہ کی نقل و حمل کے لیے مشترکہ گاڑی یا پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو ترجیح دیں۔
- بجلی کے بل کا بجٹ: آنے والے مہینوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے باعث بجلی کے بلوں میں 5 سے 10 فیصد اضافے کے لیے اپنے گھر کا بجٹ تیار رکھیں۔
- کاروباری اخراجات پر نظر: اگر آپ کوئی چھوٹا کاروبار یا ٹرانسپورٹ کا کام کرتے ہیں تو مال کی فرائنگ کے لیے پہلے سے طے شدہ معاہدے کریں۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
سب سے اہم نقطہ اوگرا کا اگلا نوٹیفکیشن ہے جو مہینے کے وسط یا آغاز میں جاری ہوتا ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہوگی کہ حکومت پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) میں ترمیم کر کے اس بوجھ کو خود برداشت کرتی ہے یا اسے مکمل طور پر عوام پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی صورتحال اور قطر و پاکستان کی مشترکہ سفارتی پیشرفت پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
