گوتنگ کے رہائشیوں کو جمعرات کے روز طویل 16 گھنٹے کی بجلی بندش کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ یوٹیلیٹی ادارے نے اہم نیٹ ورک کی مرمت کا کام شروع کر دیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے اس تجارتی مرکز میں ہونے والے ان طویل بریک ڈاؤنز سے روزمرہ کے معمولات، چھوٹے کاروبار اور سڑکوں کا ٹریفک نظام شدید متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے مطابق گرڈ کی خستہ حال لائنوں کو بچانے اور بڑے فالٹس سے نمٹنے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

مرمت کا یہ طویل سلسلہ کیوں شروع کیا گیا ہے؟

جنوبی افریقہ کے اہم بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے موسم کی تبدیلی سے قبل نظام کی بہتری کے لیے اوور ہالنگ کا عمل تیز کر دیا ہے۔ انجینئروں کی ٹیمیں سب اسٹیشنز، اوور لوڈڈ ٹرانسفارمرز اور پرانی کیبلز کو درست کرنے پر توجہ دے رہی ہیں جن کی وجہ سے ماضی میں متعدد بار تعطل پیدا ہوا تھا۔ اگرچہ گھریلو صارفین کے لیے اتنی طویل بندش پریشان کن ہے، تاہم حکام کا اصرار ہے کہ گرڈ کو مستحکم کرنے کے لیے یہ قدم ضروری ہے۔

متاثرہ علاقے اور عوام کے لیے ہدایات

جوہانسبرگ، تساوانے اور ایکورہولینی کے مختلف علاقے اس بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ تجارتی مراکز اور دکانوں کو جنریٹرز کا استعمال کرنا پڑے گا یا عارضی طور پر کام معطل رکھنا ہوگا۔ بلدیاتی اداروں نے شہریوں کو پانی ذخیرہ کرنے اور حفاظتی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

  • بجلی بحالی کے وقت وولٹیج کے اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے حساس آلات کو پلگ سے نکال دیں۔
  • بندش شروع ہونے سے پہلے اپنے موبائل فونز اور دیگر ضروری آلات مکمل چارج کر لیں۔
  • کھانے پینے کی اشیاء اور پینے کے پانی کا مناسب ذخیرہ اپنے پاس رکھیں۔

شہریوں کو اب کیا کرنا چاہیے؟

اگر اس علاقے میں آپ کے رشتہ دار یا کاروباری رابطے موجود ہیں تو سفر سے پہلے تازہ ترین شیڈول ضرور چیک کر لیں۔ بندش کے دوران ٹریفک سگنلز غیر فعال رہنے کا امکان ہے، اس لیے مرکزی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو سکتی ہے۔ اپنے انورٹرز اور یو پی ایس سسٹمز کو آج رات ہی مکمل چارج کر لیں تاکہ آپ کو کم سے کم دشواری کا سامنا ہو۔

آگے کیا توقع رکھی جائے؟

توانائی کے شعبے کے ماہرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا اسکوم مقررہ سولہ گھنٹے کے اندر مرمت کا کام مکمل کر لیتا ہے یا نہیں۔ اگر یہ مرمت کامیاب رہی تو دوسرے صوبوں میں بھی اس طرح کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ صورتحال سے باخبر رہنے کے لیے مقامی یوٹیلیٹی کی جاری کردہ اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔