وفاقی حکومت نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سندھ میں ایک نئی موٹر وے کی تعمیر کی متوقع لاگت کا سرکاری طور پر انکشاف کر دیا۔ اس منصوبے کا مقصد کراچی اور حیدرآباد کے درمیان ایک براہ راست اور تیز رفتار راہداری بنانا ہے، جس سے موجودہ قومی شاہراہ اور ایم 9 موٹر وے پر روزانہ کے ٹریفک کے شدید دباؤ میں کمی آئے گی۔ چونکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی علاقائی رابطہ کاری کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے سندھ میں نئی موٹر وے کی متوقع لاگت نے اراکین پارلیمنٹ اور مسافروں دونوں کی توجہ مبذول کروا لی ہے۔
ایم 10 منصوبے کا ڈیزائن پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی مرکز اور سندھ کے اندرونی علاقوں کے درمیان سفر کے وقت کو نمایاں طور پر کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ہر روز ہزاروں بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیاں، تجارتی ٹرک اور عام مسافر کراچی اور حیدرآباد کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ موجودہ سفری راستوں پر اکثر شدید ٹریفک جام رہتا ہے، خاص طور پر ٹول پلازوں اور صنعتی زونز کے قریب۔ حکام نے بتایا کہ اس نئی مجوزہ راہداری سے لاجسٹکس بہتر ہوں گی، مال برداری کے اخراجات کم ہوں گے اور سڑک پر سفر کی مجموعی حفاظت میں بہتری آئے گی۔
ایم 10 موٹر وے منصوبے کی اہم تفصیلات
- منصوبے کا روٹ: کراچی اور حیدرآباد کے درمیان براہ راست کنکشن
- نامزدگی: ایم 10 موٹر وے کی توسیع یا اپ گریڈیشن
- اعلان کی تاریخ: جمعہ
- فورم: قومی اسمبلی پاکستان
- بنیادی مقصد: موجودہ راستوں پر سفر کے وقت اور ٹریفک کے مسائل میں کمی
فنڈنگ کے طریقہ کار اور تعمیراتی شیڈول کا اس وقت وزارت مواصلات اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی طرف سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ میں ابتدائی مالیاتی تخمینے پیش کیے جا چکے ہیں، لیکن حتمی ٹینڈرنگ کا عمل اور ٹھیکیدار کا انتخاب درکار اصل سرمائے کے اخراجات کا تعین کرے گا۔ حکومتی نمائندوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ڈالے بغیر مستقل پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے مرحلہ وار فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
مسافروں اور کاروباری حضرات کے لیے اگلا لائحہ عمل
اگر آپ باقاعدگی سے کراچی اور حیدرآباد کے درمیان سفر کرتے ہیں یا لاجسٹکس کا کاروبار چلاتے ہیں، تو زمین کے حصول کے نوٹسز اور تعمیراتی ٹائم لائن کے حوالے سے این ایچ اے کے آئندہ پروجیکٹ اپ ڈیٹس پر نظر رکھیں۔ زمین کے حصول میں تاخیر اکثر سندھ میں بڑے بنیادی ڈھانچے کے اقدامات کو سست کر دیتی ہے۔ متوقع ہے کہ پارلیمنٹ آئندہ مالیاتی بجٹ کے اجلاسوں کے دوران ایم 10 موٹر وے کے لیے مزید فنڈز مختص کرنے پر بحث کرے گی۔
توقع ہے کہ مقامی حکام آنے والے مہینوں میں مجوزہ الائنمنٹ کے ساتھ فزیبلٹی اور ماحولیاتی اثرات کے سروے کریں گے۔ جب باضابطہ طور پر تعمیراتی کام کا آغاز ہو جائے گا تو ٹرانسپورٹرز کو ٹول اسٹرکچرز اور انٹری پوائنٹس سے متعلق اپ ڈیٹس پر نظر رکھنی چاہیے۔
