سابق سندھ وزیر غلام رسول انار نے اپنی سابقہ بیوی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کرتے ہوئے ان کی نجی تصاویر کو ایڈٹ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔ یہ شکایت کراچی کے صدر پولیس اسٹیشن میں درج کروائی گئی ہے اور اس طرح کے واقعات پاکستان میں پہلی بار نہیں ہیں جہاں اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ذاتی تنازعات میں کیا گیا ہو۔

کیا ہوا اور کب ہوا

- شکایت درج کروائی: تقریباً 12 جون 2026 کو غلام رسول انار نے کراچی کے صدر پولیس اسٹیشن میں تحریری درخواست دے کر شکایت درج کروائی۔
- الزام: انار کا کہنا ہے کہ ان کی سابقہ بیوی نے ان کی نجی تصاویر کو ایڈٹ کر کے واٹس ایپ اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا۔
- قانونی اقدام: انھوں نے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات کے تحت تہمت، سائبر ہراسانی، اور اے آئی ٹولز کے غلط استعمال کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی ہے۔
- پولیس کا ردعمل: ابھی تک 18 جون 2026 تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور کیس کو مزید تحقیقات کے لیے تفتیشی افسر (آئی او) کو بھیج دیا گیا ہے۔

انار، جو سابق سندھ حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں، نے یہ واضح نہیں کیا کہ تصاویر کو کس پلیٹ فارم پر شیئر کیا گیا یا ان تصاویر میں کیا ایڈٹس کیے گئے تھے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق تصاویر کو اے آئی کے ذریعے تبدیل کیا گیا تھا اور انھیں نجی و عوامی ڈیجیٹل اسپیسز میں گردش دی گئی تھی۔

پاکستان میں یہ کیس کیوں اہم ہے

یہ پہلی بار نہیں ہے جب پاکستان میں اے آئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے افراد کو ہراساں یا بدنام کیا گیا ہو۔ حالیہ مہینوں میں کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے عوامی شخصیات اور عام شہریوں کی جعلی نجی تصاویر بنائی اور پھیلائی گئی ہیں۔ آسان رسائی والے اے آئی ٹولز کی وجہ سے افراد کے لیے تصاویر اور ویڈیوز کو تبدیل کرنا آسان ہو گیا ہے، جو اکثر بدنیتی پر مبنی ہوتا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ سائبر کرائم قوانین اے آئی کے غلط استعمال کی پیچیدگیوں کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پی ای سی اے) 2016 سائبر ہراسانی اور تہمت کو جرم قرار دیتا ہے، لیکن اے آئی کے ذریعے بنائے گئے جھوٹے مواد کا استعمال ایک قانونی خاکے میں رہ جاتا ہے۔ عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ابھی تک ایسے کیسز کو مؤثر طریقے سے نمٹانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

قانون کیا کہتا ہے — اور کہاں خلا ہیں

پی ای سی اے 2016 کے تحت، کسی کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے مذموم، بے حیائی، یا جھوٹے مواد کو آن لائن شیئر کرنا تین سال قید اور ایک ملین روپے جرمانے کا ذمہ دار ٹھہرا سکتا ہے۔ تاہم، اس قانون میں اے آئی سے بنائے گئے مواد یا ڈیپ فیکس کا ذکر نہیں ہے، جس سے قانونی ابہام پیدا ہوتا ہے۔

  • سیکشن 20 پی ای سی اے سائبر ہراسانی کو کور کرتا ہے، جس میں رضامندی کے بغیر نجی تصاویر شیئر کرنا شامل ہے۔
  • سیکشن 21 تہمت سے نمٹتا ہے، لیکن اے آئی کے ذریعے بنائے گئے مواد میں نیت اور نقصان کو ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے۔
  • سیکشن 11 بے حیائی کو جرم قرار دیتا ہے، لیکن ڈیجیٹل دور میں "بے حیائی" کی تعریف اب بھی غیر واضح ہے جب اے آئی کا استعمال ہو۔

قانونی وکلاء کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایسے قوانین کی ضرورت ہے جو اے آئی کے ذریعے بنائے گئے مواد کے استعمال کو جرم قرار دیں جو افراد کو نقصان پہنچائے۔ بغیر واضح قوانین کے، متاثرین جیسے انار کو انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اگر آپ متاثر ہیں تو کیا کریں؟

اگر آپ یا آپ کے کسی جاننے والے پاکستان میں اے آئی سے بنائے گئے جھوٹے مواد یا سائبر ہراسانی کا شکار ہیں، تو آپ یہ اقدامات لے سکتے ہیں:

  • ہر چیز کو دستاویز کریں: مشکوک مواد کے اسکرین شاٹس، لنکس، اور ٹائم سٹیمپ محفوظ رکھیں۔ یہ ثبوت شکایت درج کرانے کے لیے اہم ہیں۔
  • شکایت درج کروائیں: اپنے قریب ترین پولیس اسٹیشن جائیں اور پی ای سی اے 2016 کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کریں۔ اگر پولیس انکار کرے تو اعلیٰ حکام سے رجوع کریں۔
  • ایف آئی اے کو رپورٹ کریں: وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کی سائبر کرائم ونگ ایسے کیسز کو سنبھالتی ہے۔ آپ آن لائن https://www.fia.gov.pk/cybercrime/ پر رپورٹ درج کروا سکتے ہیں۔
  • قانونی مدد حاصل کریں: سائبر قانون یا ڈجیٹل حقوق کے ماہر وکیل سے مشورہ کریں تاکہ مزید قانونی آپشنز دریافت کیے جا سکیں۔
  • مواد ہٹانے کی درخواست کریں: فیس بک، انسٹاگرام، اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر غیر رضامندی والے نجی مواد کی پالیسیاں موجود ہیں۔ آپ ان پلیٹ فارمز پر مواد کی رپورٹ براہ راست کر کے ہٹا سکتے ہیں۔

اس کیس میں آگے کیا ہوگا؟

کراچی کے صدر پولیس اسٹیشن نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے ایک تفتیشی افسر (آئی او) مقرر کیا ہے۔ انار کی قانونی ٹیم سے توقع ہے کہ وہ مزید ثبوت پیش کریں گے، جن میں اے آئی ایڈیٹڈ تصاویر اور ان کے گردش کرنے کے ریکارڈ شامل ہیں۔ اس کیس کے نتائج سے پاکستان میں اے آئی کے غلط استعمال کے معاملے کو کیسے نمٹا جائے، اس پر روشنی پڑ سکتی ہے۔

قانونی ماہرین اور ڈجیٹل حقوق کے کارکن اس کیس پر closely نظارہ کر رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ یہ مقدمہ حکام کو سائبر قوانین کو مضبوط بنانے اور متاثرین کے لیے واضح ہدایات فراہم کرنے پر مجبور کرے گا۔ اس دوران، انار نے عوام کو آن لائن نجی تصاویر شیئر کرنے سے محتاط رہنے کی اپیل کی ہے، یہاں تک کہ پرائیویٹ چیٹس میں بھی، کیونکہ وہ ایڈٹ کیے جا سکتے ہیں اور غلط استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان کے عوام کے لیے اہم نکات

- اے آئی ٹولز طاقتور لیکن خطرناک ہیں: اگرچہ اے آئی تخلیقیت اور جدت کے لیے استعمال ہو سکتی ہے، لیکن اسے بدنامی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- آپ کا ڈیجیٹل اثر و رسوخ اہم ہے: ایک بار جب کوئی تصویر آن لائن شیئر ہو جاتی ہے، تو اسے ایڈٹ کیا جا سکتا ہے اور آپ کی رضامندی کے بغیر دوبارہ شیئر کیا جا سکتا ہے۔
- اپنے حقوق جانیں: پاکستان کے سائبر قوانین ابھی ترقی کے مراحل میں ہیں، لیکن اے آئی کے غلط استعمال کے متاثرین کو فوری طور پر ثبوت جمع کرنا چاہیے اور قانونی چارہ جوئی کرنی چاہیے۔
- معلومات حاصل کرتے رہیں: ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور پی ای سی اے سے متعلق فیصلوں پر اپ ڈیٹ رہیں تاکہ اپنے قانونی تحفظات کو سمجھ سکیں۔

یہ کیس اس حقیقت کی ایک یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل رازداری اے آئی کے دور میں بھی یقینی نہیں ہے۔ چاہے آپ عوامی شخصیت ہوں یا عام شہری، ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے بچنے کے لیے چوکسی اور آگاہی آپ کے بہترین دفاع ہیں۔

قارئین کے سوالات

- میں کیسے جان سکتا ہوں کہ کوئی تصویر اے آئی سے ایڈٹ کی گئی ہے؟ روشنی، سائے، چہرے کے خد و خال، یا پس منظر کی تفصیلات میں عدم مطابقت پر غور کریں۔ Hive AI, Deepware Scanner, یا Microsoft Video Authenticator جیسے ٹولز ڈیپ فیکس کا پتہ لگانے میں مدد کر سکتے ہیں، حالانکہ کوئی بھی ٹول 100% درست نہیں ہے۔
- کیا میں کسی پر اے آئی ایڈیٹڈ تصاویر شیئر کرنے کے لیے مقدمہ کر سکتا ہوں؟ جی ہاں، پی ای سی اے 2016 کے تحت آپ سائبر ہراسانی یا تہمت کے لیے شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ مزید قانونی آپشنز کے لیے وکیل سے مشورہ کریں۔
- اگر کوئی مجھے دھمکی دے کہ وہ میری اے آئی ایڈیٹڈ تصاویر شیئر کرے گا تو کیا کروں؟ فوری طور پر پولیس یا ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو رپورٹ کریں۔ بلیک میل کرنے والے کے ساتھ کسی بھی طرح کا تعامل نہ کریں۔
- کیا پاکستان میں سائبر ہراسانی کے متاثرین کے لیے کوئی ہیلپ لائن ہے؟ ڈجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن (DRF) اپنی سائبر ہراسانی ہیلپ لائن پر مدد فراہم کرتی ہے جس کا نمبر 0800-37373 ہے یا آپ ان کی ویب سائٹ https://digitalrightsfoundation.pk پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

آن لائن محفوظ رہیں — اور یاد رکھیں، ایک بار جب وہ باہر آ جاتی ہے، تو آپ اسے واپس نہیں لے سکتے۔