پاکستان کا اگلا بڑا توانائی چیلنج اب صرف چھتوں پر سولر پینل لگانا نہیں رہا، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ملک اس صاف توانائی کے ساتھ آنے والی صنعتوں، سرمایہ کاری، مینوفیکچرنگ اور جدت کو بھی اپنائے۔ اسلام آباد میں 15 مئی 2026 کو ہونے والے اجلاس میں توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا کہ درآمدی فوٹو وولٹیک پینلز پر مکمل انحصار ملکی معیشت کو بیرونی سپلائی کے دھچکوں اور زرمبادلہ کے اتار چڑھاؤ کے سامنے کمزور کرتا ہے۔ اگرچہ لاہور، کراچی اور فیصل آباد سمیت ملک بھر کے لاکھوں گھروں اور تجارتی اداروں نے لیسکو اور کے الیکٹرک کے بھاری بلوں سے بچنے کے لیے نیٹ میٹرنگ سسٹمز لگائے ہیں، لیکن مقامی سطح پر ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مضبوط صنعتی بنیاد کے بغیر پاکستان ہزاروں گرین کالر ملازمتوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی سے محروم رہ رہا ہے۔

مقامی سولر مینوفیکچرنگ پر توجہ دینے کی ضرورت

گھریلو چھتوں پر سولر سسٹمز کے بے پناہ پھیلاؤ نے شہری بجلی کی کھپت کو بدل دیا ہے، لیکن درآمد شدہ ہر پینل ملک سے سرمائے کے انخلاء کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ وزارت صنعت و پیداوار اور انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کو عالمی معیار کے مینوفیکچررز کو راغب کرنے کے لیے فوری طور پر مراعاتی پیکج بنانا چاہیے۔ مقامی سطح پر ویفر، سیل اور ماڈیول اسمबली پلانٹس لگانے کے لیے قابلِ اعتماد ٹیرف پالیسیاں، خام مال پر ٹیکس چھوٹ اور صنعتی زونز کو سستی بجلی کی فراہمی ناگزیر ہے۔ جب تک حکومت طویل المدتی پالیسی کے تسلسل کی ضمانت نہیں دیتی، غیر ملکی سرمایہ کار یہاں کارخانے لگانے سے ہچکچائیں گے۔

گرڈ کا استحکام اور صارفین کی سرمایہ کاری

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور نیپرا کو اس بات پر تشویش ہے کہ چھتوں پر لگنے والے غیر منظم سولر سسٹمز سے یوٹیلیٹیز کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔ تاہم، قابل تجدید توانائی کے اس شعبے کو نقصان پہنچائے بغیر ایک متوازن ریگولیٹری فریم ورک بنانا ہوگا۔ عام صارفین کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مینوفیکچرنگ کی سرمایہ کاری کو اسپیشل اکنامک زونز کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔ انورٹرز، ماؤنٹنگ سٹرکچرز اور بیٹریوں کی مقامی پیداوار سے دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی سستی ہو جائے گی۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ اپنے گھر یا کاروبار پر سولر سسٹم لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں، تو بین الاقوامی معیار کے ٹیر-ون پینلز خریدیں اور اپنی ڈسٹ্রিবিوشن کمپنی کے ذریعے نیٹ میٹرنگ کنکشن قانونی طور پر رجسٹر کروائیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مقامی مینوفیکچرنگ پر آنے والی نئی پالیسیوں اور مراعات پر کڑی نظر رکھیں کیونکہ اس سے مارکیٹ میں آلات کی قیمتیں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ صنعتی صارفین کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی سپلائرز کے ساتھ شراکت داری کے مواقع تلاش کریں۔

آگے کیا دیکھنا ہے

وزارت توانائی اور آلٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے بڑے پیمانے پر لگنے والے سولر پارکس کے لیے مقامی مواد کی شرط سے متعلق پالیسی ڈرافٹس کا جائزہ لیں۔ آئندہ کے بجٹ میں سولر گلاس، ایلومینیم فریمز اور انورٹر کے آلات پر کسٹم ڈیوٹی کی ممکنہ تبدیلیوں پر نظر رکھیں تاکہ درست فیصلے کیے جا سکیں۔