اردو اور فرینچ زبانوں کے مابین تاریخی اور لسانی تعلقات کا موضوع ایک بار پھر 'زبان فہمی 291' کی تازہ قسط میں زیر بحث آیا ہے۔ سہیل احمد صدیقی کی تحریر کردہ اس دوسری قسط میں ان لسانی اور ساختی مماثلتوں پر روشنی ڈالی گئی ہے جو ان دو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والی زبانوں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔
اردو اور فرینچ کا لسانی تعلق
اگرچہ اردو کا تعلق ہند آریائی زبانوں سے ہے اور فرینچ رومانس زبانوں کے خاندان سے ہے، لیکن نوآبادیاتی دور اور ثقافتی تبادلے نے ان دونوں کے درمیان ایک انوکھا تعلق پیدا کیا۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اردو میں استعمال ہونے والے کئی الفاظ، خاص طور پر انتظامی، فوجی اور پکوان سے متعلق اصطلاحات، کسی نہ کسی شکل میں فرینچ زبان کے اثرات کا نتیجہ ہیں۔
صدیقی کے مطابق، زبان کا ارتقاء کبھی بھی سیدھی لکیر میں نہیں ہوتا۔ یہ مختلف آوازوں، لاحقوں اور سابقوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ڈھلتا رہتا ہے۔ پاکستانی قاری کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہے کہ ہماری روزمرہ کی زبان کس طرح عالمی ثقافتی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔
تاریخی پس منظر اور ارتقائی سفر
- نوآبادیاتی اثرات: برصغیر میں یورپی طاقتوں کی موجودگی نے بہت سے غیر ملکی الفاظ کو ہماری زبان کا حصہ بنایا۔
- لسانی مطابقت: اردو نے اپنی وسعت کی بدولت فرینچ نژاد الفاظ کو اپنے قواعد کے مطابق ڈھال لیا۔
- ادبی اثرات: بیسویں صدی کے اردو ادب میں خاص طور پر فلسفیانہ مباحث کے دوران فرینچ ادبی اسلوب کے اثرات نمایاں نظر آتے ہیں۔
اب آگے کیا ہوگا؟
اگر آپ لسانیات میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو 'زبان فہمی' سیریز کی اگلی اقساط پر نظر رکھیں۔ سہیل احمد صدیقی اکثر اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان کی علاقائی زبانیں عالمی زبانوں کے ساتھ کیسے تعامل کرتی ہیں۔ مزید تحقیق کے لیے، ادارہ فروغِ قومی زبان (NLPD) کے آرکائیوز ایسے موضوعات پر معلومات کے لیے بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
لسانی تحقیق سے کیسے استفادہ کریں؟
اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے قاری کو ایسے تقابلی لغات کا مطالعہ کرنا چاہیے جو الفاظ کے ماخذ (etymology) کو بیان کرتے ہوں۔ اکثر ہم جن الفاظ کو خالص اردو سمجھتے ہیں، ان کے پیچھے ایک طویل عالمی تاریخ چھپی ہوتی ہے۔ ان الفاظ میں ہونے والی صوتی تبدیلیوں کا مشاہدہ کر کے آپ یہ سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستان کا لسانی منظرنامہ کس قدر متحرک اور ارتقاء پذیر ہے۔
