معروف پاکستانی اداکار اور پروڈیوسر فہد مصطفیٰ نے تھائی لینڈ میں منعقدہ ہیرو انٹرنیشنل تکوانڈو اوپن چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میڈلز جیتنے والی قومی ایتھلیتس طیبہ اشرف اور صمبل فاطمہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی ہے۔ فہد مصطفیٰ نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے ان دونوں کھلاڑیوں کی کامیابی کو سراہا، جسے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بے حد پسند کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں روایتی طور پر کرکٹ کو سب سے زیادہ توجہ ملتی ہے، لیکن مارشل آرٹس اور دیگر کھیلوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان کھلاڑی بھی اپنے بل بوتے پر بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ طیبہ اشرف اور صمبل فاطمہ نے یہ اعزاز محدود وسائل اور ذاتی محنت کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے، جو کہ پورے ملک کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔
فہد مصطفیٰ کی جانب سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی
جب شوبز اور میڈیا کی بڑی شخصیات کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں سے وابستہ کھلاڑیوں کی کامیابیوں کو اجاگر کرتی ہیں، تو اس سے معاشرے میں ایک مثبت پیغام جاتا ہے۔ تکوانڈو جیسے کھیلوں کو پاکستان میں وہ مالی معاونت اور حکومتی سرپرستی حاصل نہیں ہے جو اس کی اصل حق دار ہے۔ فہد مصطفیٰ جیسے فنکاروں کی طرف سے تعریف ملنے سے ان کھیلوں کو مین اسٹریم میڈیا میں جگہ ملتی ہے۔
ہمارے کھلاڑی اکثر بیرونی ممالک میں اپنے ذاتی خرچے پر جا کر مقابلے میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کے باوجود طیبہ اشرف اور صمبل فاطمہ جیسی باصلاحیت بیٹیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ اگر عزم مضبوط ہو تو وسائل کی کمی رکاوٹ نہیں بنتی۔
پاکستانی تکوانڈو کھلاڑیوں کو درپیش چیلنجز
بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے مہنگے ساز و سامان، غیر ملکی کوچنگ اور ٹورنامنٹ کی فیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ تر مارشل آرٹس کے کھلاڑی ان اخراجات کو خود برداشت کرتے ہیں۔
- کھلاڑیوں کو اپنے ذاتی فنڈز پر بین الاقوامی سفر کرنا پڑتا ہے۔
- پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے باقاعدہ فنڈنگ اور معاونت کا فقدان ہے۔
- بڑے ٹورنامنٹ کے علاوہ میڈیا میں کوریج نہ ہونے کے برابر ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
ایک باشعور شہری کی حیثیت سے آپ سوشل میڈیا پر اس طرح کے ایتھلیتس کی کامیابیوں کو شیئر کر کے ان کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی کھیلوں کی ترویج کے لیے آواز اٹھائیں تاکہ حکومت اسپورٹس گرانٹس کو شفاف طریقے سے مستحق کھلاڑیوں تک پہنچائے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
آنے والے ہفتوں میں قومی سطح کے مقابلوں پر نظر رکھیں جہاں طیبہ اشرف اور صمبل فاطمہ اپنی اگلی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا سرکاری ادارے ان باصلاحیت کھلاڑیوں کو آئندہ کے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے مالی تعاون فراہم کرتے ہیں یا نہیں۔
