فیصل آباد انتظامیہ نے رہائشی علاقوں میں قائم فیکٹریوں کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت کمشنر نے ان صنعتی یونٹس کو شہر سے باہر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

رہائشی علاقوں میں صنعتی یونٹس کے خلاف کریک ڈاؤن

رہائشی علاقوں میں قائم industrial units in residential areas کو بند کرنے کا فیصلہ جمعرات 22 مئی 2025 کو انڈسٹری ریلوکیشن کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ کمشنر ڈاکٹر عمران حامد شیخ کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں رہائشی آبادیوں میں فیکٹریوں کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ مقامی رہائشیوں کی جانب سے طویل عرصے سے شور، کیمیائی اخراج اور بھاری ٹریفک کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

منتقلی کی وجوہات

کئی سالوں سے فیصل آباد کے رہائشی سیکٹرز میں ٹیکسٹائل اور میٹل ورکشاپس سمیت کئی چھوٹی صنعتیں قائم ہو چکی ہیں۔ اس بے ہنگم پھیلاؤ نے مقامی خاندانوں کے لیے صحت کے سنگین مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ انتظامیہ کے اس اقدام کا مقصد:
- رہائشی گلیوں میں فضائی اور صوتی آلودگی کو کم کرنا ہے۔
- زوننگ قوانین اور شہری منصوبہ بندی کے اصولوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
- تنگ گلیوں سے بھاری مشینری ہٹا کر عوامی تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔

کمیٹی نے واضح کیا کہ ان کاروباروں کو مخصوص صنعتی اسٹیٹس میں منتقل ہونا ہوگا جہاں ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر سہولیات پہلے سے موجود ہیں۔

متاثرہ کاروباری مالکان کو کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ کا کاروبار رہائشی علاقے میں واقع ہے، تو آپ کو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنا چاہیے۔ توقع ہے کہ کمیٹی جلد ہی منتقلی کے عمل کے لیے ٹائم لائن جاری کرے گی۔ کاروباری مالکان کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
1. فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی (FDA) کے زوننگ میپس سے چیک کریں کہ آپ کا یونٹ رہائشی زون میں آتا ہے یا کمرشل۔
2. منظور شدہ صنعتی زونز میں دستیاب پلاٹس کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔
3. منتقلی کے لیے دی جانے والی مہلت یا ممکنہ مراعات کے حوالے سے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے ہفتوں میں یہ واضح ہوگا کہ انتظامیہ کتنی سختی سے ان احکامات پر عملدرآمد کراتی ہے۔ اہم چیلنج ان چھوٹے فیکٹری مالکان کی مزاحمت ہے جن کا کہنا ہے کہ صنعتی اسٹیٹس میں منتقلی سے ان کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ منتقلی کی ڈیڈ لائنز اور انتظامی فیصلوں کے لیے مقامی خبروں پر نظر رکھیں۔ توقع ہے کہ انتظامیہ جلد ہی ان یونٹس کی فہرست جاری کرے گی جو منتقلی کے عمل میں تعاون نہیں کر رہے۔