فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ ایک اہم سیکیورٹی مینڈیٹ پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے، کیونکہ شہر میں اب تک 'سیف ڈرون یوزیج کمیٹی' قائم نہیں کی جا سکی۔ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے صوبہ بھر میں ان کمیٹیوں کے قیام کے لیے واضح ہدایات ایک ماہ سے زائد عرصہ قبل جاری کی گئی تھیں، لیکن فیصل آباد میں اس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

سیف ڈرون یوزیج کمیٹی کیوں ضروری ہے؟

صوبائی حکومت نے ان کمیٹیوں کا قیام اس لیے لازمی قرار دیا تھا تاکہ شہری مراکز میں بڑھتے ہوئے بغیر پائلٹ کے طیاروں (UAVs) کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔ ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے پیش نظر حکومت کا مقصد سیکیورٹی کے مسائل، پرائیویسی کی خلاف ورزیوں اور اہم تنصیبات کے قریب ممکنہ حادثات کو روکنا ہے۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے باوجود، فیصل آباد میں ڈرون پروازوں کی نگرانی کا کوئی باقاعدہ میکانزم موجود نہیں ہے۔

  • ہدایات جاری ہونے کا وقت: ایک ماہ سے زائد عرصہ قبل
  • ذمہ دار ادارہ: فیصل آباد ضلعی انتظامیہ
  • موجودہ صورتحال: غیر فعال

ڈرون کی غیر منظم پروازوں کے سیکیورٹی خدشات

کمیٹی کے فعال نہ ہونے کے باعث شہر غیر منظم فضائی سرگرمیوں کے حوالے سے خطرے کی زد میں ہے۔ ڈرونز اگر سرکاری عمارتوں، حساس علاقوں یا عوامی اجتماعات کے قریب اڑائے جائیں تو یہ بڑے سیکیورٹی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ کمیٹیاں ڈرون آپریٹرز کے لیے رابطہ کار کا کام کرنے والی تھیں تاکہ تمام پروازوں کی جانچ پڑتال ہو سکے۔ فی الحال، ضلع میں قانونی طور پر ڈرون اڑانے کے لیے کوئی واضح طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

آپ کو کیا جاننے کی ضرورت ہے؟

اگر آپ فیصل آباد میں ڈرون کے شوقین ہیں یا پیشہ ورانہ کام کے لیے اسے استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو فی الحال آپ کے پاس اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے کوئی متعلقہ دفتر موجود نہیں ہے۔ آپ کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور حساس علاقوں کے قریب ڈرون اڑانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اب بھی غیر مجاز پروازوں کو سیکیورٹی خطرہ سمجھ سکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر آفس کے اعلانات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

توقع ہے کہ ضلعی انتظامیہ پر اس کمیٹی کے قیام کے لیے دباؤ بڑھایا جائے گا۔ اگر انتظامیہ نے فوری اقدام نہ کیا تو پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے مزید بازپرس کی جا سکتی ہے۔ شہریوں اور اسٹیک ہولڈرز کو سرکاری پورٹلز پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ کمیٹی کے ارکان اور ڈرون رجسٹریشن کے طریقہ کار کے بارے میں نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی آگاہی حاصل کی جا سکے۔