گوجر خان کے رہائشی اور تجارتی علاقوں میں خستہ حال اور لٹکتی ہوئی بجلی کی تاروں نے ایک بار پھر گوجر خان پاور لائنز فائر کے بڑے حادثے کو جنم دیا ہے، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ ایک مقامی بازار میں شارٹ سرکٹ کے باعث اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ نے دکانداروں اور راہگیروں کو اپنی جان بچانے پر مجبور کر دیا۔ اس حادثے نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ پنجاب کے چھوٹے شہروں میں بجلی کی ترسیلی تنصیبات کس قدر خستہ حال ہو چکی ہیں۔ شہری کئی ماہ سے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ بجلی تقسیم کار کمپنی کو ان خطرناک تاروں کے بارے میں درخواستیں دے رہے ہیں، لیکن کوئی موثر کارروائی عمل میں نہیں آئی۔
گوجر خان میں بجلی کے نظام کی سنگین صورتحال
شہر کی اہم گلیوں اور تجارتی مراکز میں بجلی کی تاریں اتنی نیچے لٹکی ہوئی ہیں کہ پیدل چلنے والے افراد بھی خوفزدہ رہتے ہیں۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کے ماتحت چلنے والے اس نظام میں اوورلوڈ ٹرانسفارمرز اور پرانی وائرنگ معمول کا مسئلہ بن چکی ہے۔ جب بھی تیز ہوا چلتی ہے یا ہلکی بارش ہوتی ہے، تو تاریں آپس میں ٹکرا کر چنگاریاں پھینکنے لگتی ہیں۔ اس بار بھی جیسے ہی فالٹی لائن سے چنگاری نکلی، فورا افرا تفری پھیل گئی اور دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت سامان کو محفوظ کیا۔ خوش قسمتی سے کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن یہ صرف اتفاق تھا کہ کوئی راہگیر اس کی لپیٹ میں نہیں آیا۔
آپ کو بحیثیت شہری کیا اقدامات کرنے چاہئیں
اگر آپ کے محلے یا گلی میں بھی بجلی کی تاریں خستہ حال ہیں یا نیچی لٹک رہی ہیں، تو آپ کو درج ذیل احتیاطی تدابیر لازمی اختیار کرنی چاہئیں:
- اپنے علاقے میں خطرناک یا لٹکتی ہوئی تاروں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ آئییسکو کمپلینٹ آفس کو تحریری یا تصویری ثبوت کے ساتھ دیں۔
- اپنے موبائل فون میں ریسکیو 1122 اور مقامی ہنگامی امداد کے نمبر ہمیشہ محفوظ رکھیں۔
- بارش کے دوران گھروں کی بیرونی دیواروں، لوہے کے گیٹس اور بجلی کے کھمبوں کو چھونے سے گریز کریں۔
- گھر کے اندر معیاری سرکٹ بریکرز اور وولٹیج پروٹیکٹرز نصب کریں تاکہ اچانک کرنٹ آنے سے گھریلو آلات محفوظ رہیں۔
آئندہ کیا متوقع ہے اور ذمہ دار کون ہے
اس نوعیت کے حفاظتی نقائص نے نیپرا (NEPRA) کے ضوابط اور ڈسٹ্রি بیوشن کمپنیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ گوجر خان کی تاجر برادری نے انتباہ کیا ہے کہ اگر خستہ حال تاریں جلد تبدیل نہ کی گئیں تو وہ دکانیں بند کر کے احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لیتی ہے یا عوام کو اپنی مدد آپ کے تحت ہی خطرات کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ مون سون سے پہلے اس انفراسٹرکچر کی مرمت کو یقینی بنائیں تاکہ کسی بڑے جانی نقصان کو روکا جا سکے۔
