پاکستان کو اب صرف جھنڈوں اور آتش بازی تک محدود رکھنے کی بجائے، اس کے قیام کے اصل مقاصد پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، یہ کہنا ہے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا۔

انھوں نے جمعرات کو اپنے صدر مقام ڈیرہ اسماعیل خان سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ملک کا مستقبل تباہ ہو جائے گا اگر شہری اور رہنما صرف نعرے بازی چھوڑ کر انصاف، مساوات اور اسلامی فلاحی ریاست کے بنیادی مقاصد پر عمل نہ کریں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ پاکستان والے ۱۴ اگست کو جھنڈوں، آتش بازی اور سوشل میڈیا پوسٹس سے مناتے ہیں مگر ملک میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی پر توجہ کیوں نہیں دیتے جو ملک کے قیام کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

فضل الرحمان کے اس بیان کا اظہار ۱۴ اگست ۲۰۲۵ سے قبل ہوا ہے، جو پاکستان کا ۷۸ واں یوم آزادی ہوگا۔ ان کے اس بیان نے دیگر سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی آوازوں کو بھی جگایا ہے جنھوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ صرف تاریخ پر غور کرنے کی بجائے ملک کی سمت پر غور کریں۔

فضل الرحمان نے کیا کہا — اور کیا نہیں کہا

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے اپنے بیان میں صاف الفاظ میں کہا:

  • پاکستان کا قیام انصاف کے لیے ہوا تھا، مگر آج عدالتیں بند ہیں، پولیس سیاسی ہو چکی ہے اور غریبوں کو انصاف کے لیے دہائیاں گننا پڑتی ہیں۔
  • ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، مگر دودھ کی قیمت ۲۰۰ روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے اور بجلی کے بل ایک روزگار مزدور کی آدھی تنخواہ نگل جاتے ہیں۔
  • ۱۹۴۰ کا لاہور قرارداد مسلمان اکثریت والے علاقوں کو خود مختاری دینے کا مطالبہ تھا، مگر آج بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو نظر اندازی اور تشدد کا سامنا ہے، جبکہ سندھ کا پانی کا بحران دن بدن بگڑ رہا ہے۔

فضل الرحمان نے کسی خاص پالیسی یا رہنما کا نام لینے سے گریز کیا، لیکن ان کا پیغام صاف تھا: حکمران طبقے نے وہ معاشرتی معاہدہ پورا کرنے میں ناکامی دکھائی ہے جو پاکستان کے عوام کو دیا گیا تھا۔

یہ بات اب کیوں اہم ہے — اور کون سن رہا ہے

فضل الرحمان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کی معیشت سکیڑ رہی ہے، روپے کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں گر رہی ہے اور آئی ایم ایف نے مزید بیل آؤٹ کے بدلے غیر مقبول اصلاحات کی شرائط عائد کی ہیں۔ عام پاکستانی اس دباؤ کو محسوس کر رہے ہیں: پٹرول کی قیمت ۳۰۰ روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، ایک متوسط گھرانے کا ماہانہ بجلی کا بل ۱۵ ہزار روپے سے زیادہ ہے اور اخبارات میں نکلنے والی نوکریوں کے اشتہارات میں بیچلر ڈگری holders کو ۲۵ ہزار روپے کی تنخواہ پیش کی جا رہی ہے—جو بڑے شہروں میں کرایے کے لیے بھی کافی نہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان کا وقت بندی کا انتخاب حکمت عملی پر مبنی ہے۔ ان کی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) پی ڈی ایم اتحاد کی اہم اتحادی ہے، اور ان کی تنقید حکومت پر دباؤ ڈالتی ہے کہ وہ ۱۴ اگست سے پہلے کوئی اقدام اٹھائے۔ اسی دوران عمران خان کی پی ٹی آئی ”حقیقی آزادی“ کے نعرے کے تحت ریلیاں نکال رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ابھی تک بدعنوانی، آئی ایم ایف کے دباؤ اور اشرافیہ کے قبضے سے آزاد نہیں ہوا۔

پاکستان کے عوام کیا کر سکتے ہیں — جھنڈے لہرانے کے علاوہ

فضل الرحمان کا پیغام وسیع ہے، لیکن یہاں تین ٹھوس اقدامات ہیں جو عام شہری ۱۴ اگست سے پہلے کر سکتے ہیں:

  • پارلیمنٹ کو جواب دہ بنائیں: آر ٹی آئی ایکٹ ۲۰۱۷ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے حلقے کے ایم این اے اور ایم پی اے سے پوچھیں کہ انھوں نے اپنے حلقے میں کتنے ترقیاتی منصوبوں پر پارلیمنٹ کو جواب دہ بنایا۔ پنجاب انفارمیشن کمیشن اور خیبر پختونخوا کے آر ٹی آئی پورٹل آن لائن درخواستیں قبول کرتے ہیں۔
  • مقامی فلاحی کاموں کی حمایت کریں: ایڈھی فاؤنڈیشن، سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ یا الخدمت فاؤنڈیشن جیسے رجسٹرڈ فلاحی اداروں کو عطیہ دیں یا ان کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کریں۔ یہ گروپ مفت کھانا، صحت کی دیکھ بھال اور ہنگامی امداد فراہم کرتے ہیں—خدمات جو ریاست فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
  • ووٹنگ کو سنجیدگی سے لیں: ۳۱ دسمبر ۲۰۲۵ تک ووٹر رجسٹر کریں (۲۰۲۶ کے عام انتخابات کی آخری تاریخ)۔ اپنے شناختی کارڈ کی حیثیت اور ووٹنگ اسٹیشن کی تصدیق انتخابات کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی ویب سائٹ پر کریں۔ ایسے امیدواروں کو ووٹ نہ دیں جن پر بدعنوانی کے مقدماتPending ہیں—ان کے نام نیشنل اکاؤنٹ ایبلٹی بیورو (این اے بی) کی ویب سائٹ پر چیک کریں۔

اگلے کئی دنوں میں کیا دیکھنا ہے — ۱۴ اگست سے پہلے

  • ۱۰ اگست ۲۰۲۵: پی ڈی ایم حکومت سے توقع ہے کہ وہ آئی ایم ایف کی شرائط پر پورا اترنے کے لیے ایک نیا کفایت شعاری پیکج کا اعلان کرے گا۔ برقی، ایندھن یا خوراکی اشیاء پر سبسڈی میں کٹوتیوں پر نظر رکھیں۔
  • ۱۲ اگست ۲۰۲۵: عمران خان کی پی ٹی آئی لاہور کے مینار پاکستان میں ایک بڑی ریلی کا انعقاد کرے گی، جہاں وہ آزادی کے نعرے کو اقتصادی آزادی اور بدعنوانی کے خلاف جدوجہد سے جوڑیں گے۔ سکیورٹی سخت ہوگی اور شہر میں انٹرنیٹ کی پابندی کا امکان ہے۔
  • ۱۳ اگست ۲۰۲۵: مذہبی جماعتوں، جن میں جمیعت علمائے اسلام (ف) بھی شامل ہے، ملک بھر میں ”یوم تکبیر“ کے پروگرام منعقد کریں گے، جہاں پاکستان کی جوہری صلاحیت کو اسلامی شناخت سے جوڑا جائے گا۔ ان اجتماعات میں اکثر سرکار مخالف مظاہرے بھی ہوتے ہیں۔

اصل بات

مولانا فضل الرحمان کا پیغام نیا نہیں، لیکن انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان کے عوام خالی تقریبات اور خالی نعرے بازی سے تنگ آ چکے ہیں۔ ملک کے قیام کے بنیادی مقاصد—انصاف، مساوات اور اسلامی فلاحی ریاست—ابھی تک کاغذ پر ہی ہیں۔ یہ فیصلہ پاکستان کو کرنا ہے کہ آیا وہ ان مقاصد پر ۱۴ اگست سے پہلے عمل کرتا ہے یا بعد میں۔

اگر آپ بھی ۱۴ اگست کی پرانی روٹین سے تنگ آ چکے ہیں، تو اس سال کچھ مختلف کریں۔ اپنے ایم این اے اور ایم پی اے سے ایک سوال پوچھیں: آپ نے اپنے ووٹرز کے لیے کیا کیا ہے؟

اگر وہ جواب نہ دے سکیں، تو ۲۰۲۶ میں انہیں ووٹ نہ دیں۔

پاکستان کو کیا وعدہ کیا گیا تھا — اور آج کیا ملا

| وعدہ | ۲۰۲۵ میں حقیقت |
|---------------------------|-----------------------------------------------|
| سب کے لیے انصاف | عدالتیں ۵ سے ۱۰ سال تاخیر سے چل رہی ہیں؛ پولیس سیاسی ہو چکی ہے |
| اسلامی فلاحی ریاست | ۳۸ فیصد مہنگائی، دودھ ۲۰۰ روپے فی لیٹر، بجلی کے بل ۱۵ ہزار روپے ماہانہ |
| صوبائی خود مختاری | بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شورش اور نظر اندازی؛ سندھ کا پانی کا بحران بگڑ رہا ہے |
| اقتصادی آزادی | آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ، روپے کی قیمت ۳۰۰ روپے فی ڈالر، نوکریوں کی تنخواہیں ۲۵ ہزار روپے |
| بدعنوانی سے پاک حکومت | این اے بی کے مقدمات stalled، اشرافیہ کا ریاستی اداروں پر قبضہ |

اپنے حقوق اور مدد کے ذرائع کیسے چیک کریں

فضل الرحمان کا پیغام ایک آئینہ ہے۔ پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے: کیا ہم صرف فریم کو چمکانے پر اکتفا کریں گے، یا آخر کار تصویر لٹکائیں گے؟