جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے یکم جون 2024 کو اپنے انتہائی اہم فضل الرحمان کا پشاور میں خطاب کے دوران موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت کو مسترد کرتے ہوئے ملک میں گہرے آئینی بحران کی وارننگ دی ہے۔ پشاور میں پارٹی ورکرز کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، سینئر سیاستدان نے حکمران اتحاد پر براہ راست حملہ کیا اور الزام لگایا کہ انہوں نے چوری شدہ مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب آئین کو مسلسل پامال کیا جائے اور ریاستی ادارے اپنی قانونی حدود سے تجاوز کریں تو ملک نہیں چل سکتا۔
ملک میں جاری شدید سیاسی اور اقتصادی تناؤ کے دوران منعقدہ اس کنونشن میں مولانا فضل الرحمان نے سول انتظامیہ اور عسکری اسٹیبلشمنٹ دونوں کے خلاف غیر معمولی سخت لہجہ اختیار کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی، جس سے عوام کو ان کے حقیقی نمائندوں سے محروم کر دیا گیا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے مطابق، اس منظم دھاندلی نے پارلیمنٹ کو مفلوج کر دیا ہے اور وہ عام شہریوں کے بنیادی مسائل حل کرنے کے قابل نہیں رہی۔
جے یو آئی ورکرز کنونشن کے اہم نکات
سیاسی منظر نامے میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے، یکم جون 2024 کو پشاور کے اجتماع میں اٹھائے گئے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- آئینی خلاف ورزیاں: جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ غیر سیاسی اداروں کی مسلسل مداخلت نے پاکستان کے آئین کو عملاً ایک بے اثر دستاویز بنا دیا ہے۔
- امن و امان کا بحران: انہوں نے خیبر پختونخوا (کے پی) اور بلوچستان میں امن و امان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، جہاں عسکریت پسند گروہ دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔
- معاشی تباہی: فضل الرحمان نے ملک کی معاشی بدحالی کو براہ راست سیاسی عدم استحکام سے جوڑا اور کہا کہ کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ کار اس حکومت پر بھروسہ نہیں کرے گا جس کے پاس عوامی مینڈیٹ نہ ہو۔
- نئے انتخابات کا مطالبہ: انہوں نے جمہوری ساکھ کی بحالی کے لیے کسی بھی قسم کی ادارہ جاتی مداخلت کے بغیر فوری اور شفاف عام انتخابات کرانے کا مطالبہ۔
فضل الرحمان کا پشاور میں خطاب اور سول بالادستی
اپنے اس تفصیلی خطاب کے دوران، مولانا نے سول اتھارٹی کی کمزوری پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ انتظامی اور سیاسی امور میں عسکری مداخلت نے ریاستی اداروں کو خطرناک حد تک کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے پرجوش ہجوم سے کہا، "ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں پارلیمنٹ بالادست ہو اور ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کرے۔"
انہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سابقہ اتحادیوں، بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو بھی نشانہ بنایا اور ان پر عارضی اقتدار کے لیے جمہوری اصولوں کا سودا کرنے کا الزام لگایا۔ جے یو آئی (ف)، جو کبھی عمران خان کی حکومت کو ہٹانے میں کلیدی اتحادی تھی، اب موجودہ سیٹ اپ کی سب سے بڑی نقاد بن کر ابھری ہے، جو پاکستان کی سیاست میں ایک بڑے اتحاد کی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال اور سیکیورٹی کا خلا
خطاب کا ایک بڑا حصہ کے پی اور بلوچستان میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال کے لیے وقف تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے نشاندہی کی کہ بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز اور سیکیورٹی پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود مقامی پولیس فورس تاحال وسائل سے محروم ہے جبکہ مسلح گروپ کے پی کے جنوبی اضلاع میں آزادانہ گھوم رہے ہیں۔
انہوں نے دلیل دی کہ سیکیورٹی کی یہ ناکامی براہ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے جنہیں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان کا سامنا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک مضبوط سیکیورٹی ڈھانچہ ہونے کے باوجود ریاست اپنے لوگوں کے تحفظ میں کیوں ناکام رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توجہ ملکی دفاع سے ہٹ کر سیاسی انجینئرنگ پر مرکوز ہو چکی ہے۔
پاکستانی قارئین کے لیے عملی مشورے
اس غیر یقینی اور کشیدہ سیاسی ماحول میں، بطور شہری آپ کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:
- مقامی سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھیں: اگر آپ خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں رہتے ہیں، تو مقامی سیکیورٹی کی صورتحال سے باخبر رہیں اور بڑے سیاسی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں جو ممکنہ طور پر نشانہ بن سکتے ہیں۔
- مالیاتی منصوبہ بندی کریں: تقریر میں اجاگر کیے گئے سیاسی عدم استحکام کے پیش نظر، اپنی بچتوں کو محفوظ اثاثوں میں رکھیں اور ممکنہ مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار رہیں۔
- سیاسی دعووں کی تصدیق کریں: سوشل میڈیا پر سیاسی اتحادوں یا دیگر افواہوں کو بغیر تصدیق کے شیئر کرنے سے گریز کریں۔ درست اور غیر جانبدارانہ معلومات کے لیے 'نیا پاکستان' جیسے معتبر ذرائع پر بھروسہ کریں۔
آنے والے دنوں میں کیا دیکھنا ہوگا؟
آنے والے ہفتوں میں درج ذیل پیش رفت پر گہری نظر رکھیں:
- جے یو آئی (ف) کی احتجاجی تحریک: جے یو آئی (ف) کی جانب سے ملک گیر احتجاجی ریلیوں کے اعلانات پر نظر رکھیں، جس سے بڑے شہروں میں کاروباری سرگرمیاں اور آمد و رفت متاثر ہو سکتی ہے۔
- پارلیمانی اتحاد: دیکھیں کہ کیا جے یو آئی (ف) قومی اسمبلی اور سینیٹ میں حکومتی قانون سازی کو روکنے کے لیے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی پی ٹی آئی کے ساتھ باقاعدہ تعاون کرتی ہے یا نہیں۔
- اسٹیبلشمنٹ کا ردعمل: سیاسی مداخلت اور سیکیورٹی ناکامی کے الزامات پر آئی ایس پی آر یا وفاق کی وزارت داخلہ کے کسی بھی ممکنہ بیان یا ردعمل پر نظر رکھیں۔
