جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کا شوشہ دراصل سنگین معاشی مسائل اور عوام کی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ کوئٹہ میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے خبردار کیا کہ جب بھی حکومت کو عوامی دباؤ یا معاشی بدحالی کا سامنا ہوتا ہے، اس قسم کے متنازع سیاسی موضوعات اچانک ہوا میں اچھال دیے جاتے ہیں۔
مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عام پاکستانی کے لیے اس وقت صوبائی حدود کی بحث سے زیادہ اہم اس کا ماہانہ بجٹ، بجلی کے بل اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے واضح کیا کہ آئینی نظام اور جمہوریت کی بنیادوں سے کھیلنے کے بجائے حکومت کو اپنی توجہ بنیادی گورنس اور مہنگائی پر مرکوز کرنی چاہیے۔ جب عام آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہو، تو اس قسم کے انتظامی نعرے کسی بھی طرح عوام کی مشکلات میں کمی کا باعث نہیں بن سکتے۔
اس بحث کا وقت اور پس منظر
سیاسی مبصرین کے مطابق جب بھی حکومتوں پر عوامی سطح پر سوالات اٹھتے ہیں، توجہ کا رخ موڑنے کے لیے ایسے موضوعات چھیڑ دیے جاتے ہیں۔ کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے بغیر اس قسم کے نعرے محض وقت گزارنے کا حربہ ہیں۔ آپ کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ ملک اس وقت جن معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے، اس میں اس طرح کے شوشے چھوڑنا عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
- عوام پہلے ہی ٹیکسوں اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
- روزگار کے مواقع سکڑ رہے ہیں اور قوتِ خرید ختم ہو رہی ہے۔
- ملک میں سیاسی استحکام کے بغیر اس طرح کے ایشوز پر بحث بے معنی ہے۔
مولانا نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ان کی جماعت اس طرح کے کسی بھی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے گی جو ملک میں مزید انارکی یا الجھن پیدا کرے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ عوامی مینڈیٹ کا احترام اور معیشت کی درست سمت کا تعین ہے، نہ کہ انتظامی تقسیم پر الجھنا۔
ایک شہری کی حیثیت سے آپ کو کیا کرنا چاہیے
جب ٹی وی چینلز اور سیاسی حلقوں میں صوبوں کی بحث گرم ہو، تو بطور عام شہری آپ کو جذباتی نعرہ بازی سے گریز کرنا چاہیے۔ آپ کی ترجیح اپنی روزمرہ کی معاشی بقا اور گھریلو بجٹ ہونی چاہیے۔ ان اقدامات کو مدنظر رکھیں:
- سیاسی شوشوں میں الجھنے کے بجائے اپنے مالی معاملات کو مستحکم رکھیں۔
- حکومتی وزراء کے بیانات سے ہٹ کر زمینی حقائق کا جائزہ لیں۔
- اپنے منتخب نمائندوں سے مہنگائی اور بنیادی سہولیات پر جواب طلبی کریں۔
آگے کیا ہونے کی توقع ہے
آنے والے دنوں میں دیکھنا یہ ہوگا کہ آیا دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے پر جے یو آئی کے مؤقف کی حمایت کرتی ہیں یا نہیں۔ اگر سیاسی جماعتوں نے اس شوشے کو سنجیدہ نہ لیا تو یہ بحث خود بخود دم توڑ جائے گی۔ آپ کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کی کارروائی پر نظر رکھنی چاہیے کیونکہ معاشی دباؤ ہی آنے والے دنوں میں اصل سیاست کا قبلہ طے کرے گا۔
چاہے یہ بحث پارلیمنٹ میں آئے یا سرد خانے کی نذر ہو جائے، ایک بات طے ہے کہ سیاستدان اپنے مفادات کے لیے نئے پتے کھیلتے رہیں گے۔ آپ کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ آپ حقائق کو سمجھیں اور اپنی توجہ اصل مسائل پر مرکوز رکھیں۔
