فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین نے کاروباری برادری سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ تاجروں کے زیر التوا ٹیکس ریفنڈز بلا تاخیر ادا کر دیے جائیں گے۔ ٹیکس ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران کاروباری شخصیات نے درپیش مالی مشکلات سے آگاہ کیا، جس پر چیئرمین نے موقع پر ہی متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کر دیں۔ تاجروں کا دیرینہ شکوہ رہا ہے کہ ریفنڈز کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ان کا ورکنگ کیپٹل پھنس جاتا ہے اور فیکٹریاں چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔
ملاقات میں ملک بھر کے اہم تجارتی شہروں سے آئے ہوئے نمائندوں نے بتایا کہ بجلی، گیس کے بھاری بلوں اور بینکوں کے بلند شرح سود کے اس دور میں ریفنڈز کا رک جانا کاروباری سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس موقع پر ایف بی آر حکام کو ہدایت کی گئی کہ تصدیق شدہ کلیمز کو بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے کلیئر کیا جائے تاکہ تاجر برادری کو مالی ریلیف مل سکے۔ خودکار سسٹمز کے ذریعے ان شکایات کے فوری ازالے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
کاروباری کیش فلو کے لیے ریفنڈز کی اہمیت
کراچی، لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ جیسے بڑے صنعتی مرکزوں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں میں ٹیکس کی مد میں پھنسا ہوا پیسہ ان کے روزمرہ کے کاروباری امور کو متاثر کرتا ہے۔ جب سیلز ٹیکس یا انکم ٹیکس کے ریفنڈز مہینوں تک نہیں ملتے تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانہ داروں کے لیے خام مال کی خریداری اور ملازمین کی تنخواہیں دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاجر رہنماؤں نے زور دیا کہ ٹیکس وصولی کے اہداف پورے کرنے کے ساتھ ساتھ واپسی کے عمل کو بھی شفاف اور تیز بنایا جائے۔
تاجروں کے لیے اہم ہدایات
اگر آپ کے بھی ٹیکس کلیمز حکومتی سطح پر زیر التوا ہیں تو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ادائیگی میں رکاوٹ نہ آئے:
- اپنے آئی ایس پورٹل پر جا کر تصدیق کریں کہ آپ کی تمام ریٹرنز اور ریفنڈ ایپلیکیشنز درست طریقے سے جمع ہیں۔
- ایف بی آر کے ریکارڈ میں اپنا بینک اکاؤنٹ اور آئی بی اے این نمبر بالکل درست درج رکھیں۔
- اگر آپ کا تصدیق شدہ کلیم طویل عرصے سے رکا ہوا ہے تو اپنی متعلقہ تجارتی ایسوسی ایشن یا چیمبر کے ذریعے رابطہ کریں۔
- کسی بھی آڈٹ آبجیکشن کی صورت میں اپنے سرکل افسر سے فوری رابطہ کر کے دستاویزات جمع کروائیں۔
آگے کیا ہوگا؟
آئندہ چند ہفتوں کے دوران تجارتی تنظیمیں اس بات کا جائزہ لیں گی کہ ایف بی آر کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کتنی حد تک عملی جامہ پہنتی ہے۔ اگر زیر التوا ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کا سلسلہ شروع ہو گیا تو اس سے کاروباری حلقوں میں اعتماد بحال ہوگا۔ تاجروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے کلیمز کی صورتحال جاننے کے لیے باقاعدگی سے اپنا ٹیکس پورٹل چیک کرتے رہیں۔
