ہر سال انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا سیزن شروع ہوتے ہی کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت پورے ملک کے ٹیکس دہندگان کے لیے پریشانی کا ایک نیا دور شروع ہو جاتا ہے۔ اس مایوسی میں اس وقت مزید اضافہ ہوتا ہے جب فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) عین اس وقت جب ڈیڈ لائن کی دوڑ شروع ہوتی ہے، آئی آر آئی ایس پورٹل، فائلنگ کے طریقہ کار اور ریٹرن فارمز میں اچانک تبدیلیاں متعارف کرا دیتا ہے۔ قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کو ایک مستحکم ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے بجائے، ٹیکس اتھارٹی روایتی طور پر اس وقت بیک اینڈ ڈھانچے اور دستاویزات کے ڈیزائن کو بدل دیتی ہے جب لوگ اپنے کوائف جمع کرانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔

تنخواہ دار طبقے، کارپوریٹ فائلرز اور ٹیکس کنسلٹنٹس سب کے لیے یہ آخری وقت کی تبدیلیاں ٹیکس جمع کرنے کے عمل کو ایک کٹھن امتحان بنا دیتی ہیں۔ زیادہ ٹریفک کی وجہ سے سسٹم سست ہو جاتے ہیں، مانوس مینو غائب ہو جاتے ہیں اور بغیر کسی واضح وضاحت کے ایرر میسجز آنے لگتے ہیں۔ لوگ گھنٹوں اس بات پر غور کرتے رہتے ہیں کہ پچھلے ماہ جو فارم ٹھیک کام کر رہا تھا وہ اب کیوں غلطی دے رہا ہے۔ یہ ایک ایسا انتظامی مسئلہ ہے جو ٹیکس دینے کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے شہریوں کو مزید الجھاتا ہے۔

ایف بی آر پورٹل کی تبدیلیاں ٹیکس فائلنگ کو کیوں متاثر کرتی ہیں؟

ڈیجیٹل نظام میں ان تبدیلیوں کا وقت ہی وہ اصل چیز ہے جو ٹیکس کے پورے نظام کو نقصان پہنچاتی ہے۔ جب ایف بی آر سیزن کے عین عروج پر آئی آر آئی ایس پورٹل کو اپ ڈیٹ کرتا ہے تو اس سے وہ تمام مسودے ضائع ہو جاتے ہیں جو لوگ پہلے ہی تیار کر چکے ہوتے ہیں۔ اہم تجارتی مراکز کے ٹیکس کنسلٹنٹس کا کہنا ہے کہ فارمز کے خانے یا دولت کے گوشوارے کے اصول راتوں رات بدل جانے کی وجہ سے انہیں پوری محنت دوبارہ کرنا پڑتی ہے۔

  • فارمز کے نئے ڈیزائن ان عام صارفین کو الجھا دیتے ہیں جو سال میں صرف ایک بار لاگ ان کرتے ہیں۔
  • جب ہزاروں افراد بیک وقت نئے انٹرفیس کو استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سرور بیٹھ جاتے ہیں۔
  • ٹریننگ یا تفصیلی گائیڈ نہ ہونے کی وجہ سے عام شہری معمولی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے بھی مہنگے ماہرین پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ مسلسل تبدیلیاں ملک میں ٹیکس کلچر کے فروغ کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب شہریوں کو ہر موڑ پر تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو ٹیکس دینا قومی فریضہ کے بجائے ایک عذاب معلوم ہوتا ہے۔

آپ کو اپنی حفاظت کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

اگر آپ اس انتظامی الجھن سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی فائلنگ کی عادتیں بدلنا ہوں گی۔ ڈیڈ لائن کے آخری ہفتوں کا انتظار ہرگز نہ کریں جب پورٹل پر رش عروج پر ہوتا ہے اور سسٹم کے کریش ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اپنے ود ہولڈنگ ٹیکس سرٹیفکیٹس، تنخواہ کی پرچیوں، یوٹیلیٹی بلز اور بینک اسٹیٹمنٹس کو وقت سے پہلے اکٹھا کر لیں تاکہ پورٹل کھلتے ہی آپ کا کام ہو سکے۔

فارم پُر کرتے وقت ہر مکمل حصے کا اسکرین شاٹ ضرور محفوظ کر لیں۔ چونکہ آئی آر آئی ایس پورٹل رش کے اوقات میں اکثر بند ہو جاتا ہے یا ڈیٹا سیو نہیں کرتا، اس لیے اپنے پاس اعداد و شمار کا بیک اپ رکھنا آپ کا بہت سا وقت بچا سکتا ہے۔ اگر آپ کو کسی ایسے تکنیکی مسئلے کا سامنا ہو جو جمع کرانے میں رکاوٹ بنے تو اندازے سے کام کرنے کے بجائے ایف بی آر کی ہیلپ لائن یا آفیشل ٹکٹ سسٹم کے ذریعے شکایت درج کریں۔

ٹیکس کے نظام میں آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ آیا ایف بی آر ان ابتدائی تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے تاریخ میں توسیع کا اعلان کرتا ہے یا نہیں۔ تاریخی طور پر جب سسٹم بیٹھ جاتا ہے تو ڈیڈ لائن میں توسیع عام بات ہے۔ اس کے علاوہ ان سرکاری سرکولرز پر بھی نظر رکھیں جو نئے قوانین کے تحت دولت کے گوشوارے جمع کرانے کی وضاحت کرتے ہیں۔

کاروباری حضرات اور انفرادی فائلرز کو چاہیے کہ وہ نئی خرابیاں سامنے آنے پر ٹیکس ماہرین کی تجاویز اور فورمز سے مدد لیں۔ جب تک ریوینیو بورڈ ایک مضبوط اور مستحکم آئی ٹی انفراسٹرکچر نہیں بناتا جو سیزن کے دوران بلا تعطل کام کرے، اس وقت تک ٹیکس دہندگان کو بروقت تیاری اور صبرو تحمل سے ہی کام لینا ہوگا۔