فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے کسٹمز کے ضوابط کی خلاف ورزیوں پر fbr customs penalty کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے، جس کے تحت اب جرمانے کی حد 10 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اقدام درآمدی عمل کو بہتر بنانے اور سامان کی کلیئرنس میں تاخیر کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

کسٹمز جرمانوں کا نیا ڈھانچہ

نئے ترمیم شدہ شیڈول کا ہدف وہ طریقہ کار کی خلاف ورزیاں ہیں جو پاکستان کی بندرگاہوں اور ڈرائی پورٹس پر رکاوٹوں کا باعث بنتی ہیں۔ نئے قوانین کے تحت درآمد کنندگان اور کلیئرنگ ایجنٹس کو درج ذیل معاملات میں بھاری جرمانے ادا کرنا ہوں گے:

  • گڈز ڈیکلریشن (GD) جمع کرانے میں تاخیر۔
  • کسٹمز ایریا سے درآمد شدہ سامان کو غیر مجاز طریقے سے یا تاخیر سے ہٹانا۔
  • کارگو پروسیسنگ کے لیے مقررہ وقت کی پابندی نہ کرنا۔

10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کا مقصد درآمد کنندگان کو اس بات کا پابند بنانا ہے کہ وہ اپنے دستاویزات وقت پر جمع کرائیں اور سامان کی منتقلی میں غیر ضروری تاخیر سے گریز کریں۔

ایف بی آر نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟

کئی سالوں سے ایف بی آر کو ان درآمد کنندگان کی وجہ سے انتظامی مسائل کا سامنا تھا جو مقررہ وقت کے اندر اپنے سامان کی کلیئرنس نہیں کرواتے۔ اس تاخیر سے نہ صرف سرکاری ریونیو کے اہداف متاثر ہوتے ہیں بلکہ بندرگاہوں پر رش بڑھتا ہے، جس سے مجموعی کاروباری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ 10 لاکھ روپے کا نیا جرمانہ ان تاجروں کے لیے ایک انتباہ ہے جو کسٹمز کے عمل کو معمولی سمجھتے ہیں۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

ان بھاری جرمانوں سے بچنے کے لیے درآمد کنندگان کو چاہیے کہ وہ اپنی لاجسٹک ٹیموں اور کلیئرنگ ایجنٹس کی کارکردگی کا فوری جائزہ لیں۔

  1. اپنے کلیئرنگ ایجنٹ کی کارکردگی کو چیک کریں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ تمام قانونی ڈیڈ لائنز کو پورا کر رہے ہیں۔
  2. اپنی شپمنٹس کے حوالے سے کسی بھی نوٹیفکیشن کے لیے ایف بی آر کے WeBOC پورٹل کو باقاعدگی سے دیکھیں۔
  3. دستاویزات کو بروقت تیار رکھیں تاکہ آخری لمحات میں ہونے والی غلطیوں سے بچا جا سکے۔

مستقبل میں کیا توقع رکھیں؟

کاروباری برادری اب یہ دیکھ رہی ہے کہ ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر ان جرمانوں کا نفاذ کتنی سختی سے کرتے ہیں۔ اگرچہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، لیکن کسٹمز حکام کا ان جرمانوں کے اطلاق میں صوابدیدی اختیار تاجروں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ آپ مزید تفصیلات کے لیے ایف بی آر کی آفیشل ویب سائٹ fbr.gov.pk پر نظر رکھیں۔