فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مقررہ مدت میں گڈز ڈیکلریشن جمع نہ کرانے اور گوداموں سے سامان ہٹانے میں تاخیر کرنے والے تجارتی درآمد کنندگان کے خلاف سخت ایف بی آر کسٹم جرمانے عائد کر دیے ہیں۔ یکم اکتوبر سے نافذ ہونے والے ان نئے ضوابط کا مقصد گھریلو استعمال کے لیے گڈز ڈیکلریشن فائل کرنے میں تاخیر اور بانڈڈ گوداموں میں طویل عرصے تک کھیپ روکے رکھنے کے رجحان پر قابو پانا ہے۔ جو درآمد کنندگان قانونی آخری تاریخوں سے چوک جائیں گے، انہیں کراچی اور پورٹ قاسم جیسے بڑے تجارتی حبس پر فوری مالی جرمانے بھرنا ہوں گے۔
نئے نوٹیفکیشن کے تحت ٹیکس اتھارٹی نے کارگو کے رکنے کے وقت کو کم کرنے کے لیے شکنجہ کَس لیا ہے۔ درآمد کنندگان اکثر ڈیوٹی کی ادائیگی میں تاخیر کے لیے سامان بانڈڈ سہولیات میں چھوڑ دیتے ہیں، جسے محکمہ ریونیو اب سختی سے ختم کرنا چاہتا ہے۔ یکم اکتوبر کی مؤثر تاریخ کے بعد، کلیئرنگ ایجنٹس اور تجارتی اداروں کو اپنی لاجسٹکس کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ روزمرہ کی درآمدی کھیپ پر بھاری مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔
نئے ایف بی آر جرمانوں کی تفصیلات
اپ ڈیٹ کردہ نوٹیفکیشن میں درآمدی سپلائی چین میں دو بنیادی خلاف ورزیوں کے لیے جرمانوں کا ڈھانچہ واضح کیا گیا ہے۔ پہلا یہ کہ مقررہ مدت کے بعد گھریلو استعمال کے لیے گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے میں تاخیر پر براہ راست مالی پابندی لگائی جائے گی۔ دوسرا یہ کہ گوداموں کی سہولیات سے سامان کو مقررہ مدت میں نہ ہٹانے پر روزانہ یا یکمشت جرمانے عائد ہوں گے۔
- گھریلو استعمال کے لیے گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے میں تاخیر پر سخت مالی جرمانہ ہوگا۔
- بانڈڈ گوداموں سے سامان ہٹانے میں تاخیر پر فوری ریگولیٹری جرمانے عائد ہوں گے۔
- یہ اقدامات ملک بھر کے تمام بڑے ڈرائی پورٹس اور بندرگاہوں پر آنے والی تجارتی کھیپ پر یکساں لاگو ہوں گے۔
- تمام نئے نفاذی اقدامات کے لیے مؤثر تاریخ یکم اکتوبر مقرر کی گئی ہے۔
تاجروں اور کارپوریٹ سپلائی چین مینیجرز کو یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ یہ جرمانے تیزی سے بڑھتے ہیں۔ پورٹ حکام اور کسٹم کلیکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمپیوٹرائزڈ ویبک (WeBOC) اور پی ایس ڈبلیو سسٹمز کے ذریعے جرمانے کا حساب کتاب خودکار بنائیں، تاکہ کسٹم ہاؤسز میں کسی قسم کی صوابدید یا تاخیر کی گنجائش نہ رہے۔
درآمد کنندگان اور تجارتی کیش فلو پر اثرات
پاکستان میں کاروبار کرنے والے عام تاجر کے لیے ان تبدیلیوں کا مطلب یہ ہے کہ سپلائی چین میں معمولی سی غفلت بھی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ جو درآمد کنندگان پہلے ہی زیادہ شرح سود، زر مبادلہ کے اتار چڑھاو اور لیٹر آف کریڈٹ کی تاخیر سے پریشان ہیں، انہیں اب کسٹم کے سخت شیड्यूلز کو اپنی لاگسٹک لاگت میں شامل کرنا ہوگا۔ بندرگاہ پر دستاویزات کی معمولی سی رکاوٹ بھی خودکار جرمانے لگنے کے بعد منافع کے مارجن کو ختم کر سکتی ہے۔
اب آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ باقاعدگی سے درآمدات کرتے ہیں یا کارپوریٹ سپلائی چین چلاتے ہیں، تو آپ کسٹم کے کاغذی کام میں سستی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔ پورٹ ٹرمینلز پر کھیپ پہنچنے سے پہلے اپنے کلیئرنگ ایجنٹس کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ یکم اکتوبر کے نئے جرمانوں سے بچنے کے لیے آپ کے تمام تجارتی انوائسز، پیکنگ لسٹس اور سرٹیفکیٹس درست ہوں۔ اپنے گودام کی انوینٹری رپورٹس پر گہری نظر رکھیں اور کلیئرنس ملتے ہی بانڈڈ سہولیات سے سامان فوراً منتقل کریں۔
