فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستانی بندرگاہوں پر مقررہ مدت سے زیادہ رکے ہوئے کارگو کے لیے جرمانے کے خودکار حساب اور وصولی کے نئے قواعد نافذ کر دیے ہیں۔ حکام نے جمعرات کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ یہ اقدام کسٹمز کے امور میں شفافیت لانے اور انسانی مداخلت کو ختم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

اوور اسٹے کارگو مینجمنٹ کے ان نئے قوانین کے تحت ایک ایسا ڈیجیٹل نظام بنایا گیا ہے جو کنٹینرز کے پورٹ پر قیام کے وقت کی نگرانی کرے گا اور قانونی مدت پوری ہونے کے بعد خود بخود جرمانے عائد کرے گا۔ کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم سمیت تمام بڑے تجارتی مراکز پر کام کرنے والے درآمد کنندگان اور کلیئرنگ ایجنٹس اب براہ راست سسٹم کے ذریعے جنریٹ کردہ جرمانے کے نوٹسز وصول کریں گے۔

خودکار جرمانے کا نظام کیسے کام کرے گا

نئے نوٹیفکیشن کے مطابق، ایف بی آر کا کمپیوٹرائزڈ کسٹمز سسٹم ہر آنے والی کھیپ کے اندراج کے وقت کو ٹریک کرے گا۔ جب سامان گڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) جمع کرائے بغیر یا مقررہ مدت کے اندر کلیئرنس کے بغیر بندرگاہ پر موجود رہے گا، تو سافٹ ویئر خود بخود جرمانے کی رقم کا حساب لگا لے گا۔

خودکار نظام کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
- تمام تجارتی بندرگاہوں پر کنٹینرز کے قیام کے وقت کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ
- سرکاری واجبات اور جرمانے کے حساب کتاب کا خودکار عمل
- درآمد کنندگان کے رجسٹرڈ پروفائل پر براہ راست الیکٹرانک نوٹیفیکیشن کا ارسال
- کاغذی کارروائی اور مینول فائل ورک کا خاتمہ

کاروباری حضرات اور لاجسٹکس کے شعبے سے وابستہ افراد کو ان اپ ڈیٹ شدہ ڈیجیٹل پروٹوکولز کے مطابق تیزی سے ڈھلنا ہوگا۔ کھیپ کی کلیئرنس میں تاکیخ اب مینول ڈیسک مداخلت کے ذریعے حل نہیں کی جا سکے گی، اس لیے وقت پر کاغذات کی تیاری انتہائی ضروری ہے۔

درآمد کنندگان اور کلیئرنگ ایجنٹس پر اثرات

درآمد کنندگان طویل عرصے سے کلیئرنس بے پر بیوروکریسی کی تاخیر اور من مانے جرمانے عائد کرنے کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ ایف بی آر کو امید ہے کہ اس خودکار تبدیلی سے تجارتی لاجسٹکس میں شفافیت آئے گی۔

تاہم، صنعت سے وابستہ افراد کو اپنی سپلائی چین کی ٹائم لائنز کو سخت کرنا ہوگا۔ اگر آپ کے کاغذات کسٹمز کے مسائل کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئے، تو سسٹم ڈیڈ لائن ختم ہوتے ہی خود بخود مالی جرمانہ عائد کر دے گا۔ کلیئرنگ ایجنٹس اپنے کلائنٹس کو مشورہ دے رہے ہیں کہ جہاز کے لنگر انداز ہونے سے پہلے ہی دستاویزات جمع کرا دیں تاکہ خودکار جرمانوں سے بچا جا سکے۔

اب آپ کو کیا کرنا چاہیے

اگر آپ کا کوئی تجارتی سامان اس وقت پورٹ ٹرمینلز پر موجود ہے یا آنے والے ہفتوں میں پہنچنے والا ہے، تو اپنے کلیئرنس کے شیڈول کا فوری جائزہ لیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹ ایف بی آر کے ڈیجیٹل پورٹل کے ساتھ جڑا ہوا ہے تاکہ قیام کی مدت سے متعلق فوری الرٹس مل سکیں۔

نوٹیفیکیشن کے مکمل متن اور اپ ڈیٹ شدہ نرخوں کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آفیشل ویب سائٹ fbr.gov.pk کا وزٹ کریں۔ دستاویزات بروقت جمع کرانے سے آپ کا کاروبار ان سخت نئے قوانین کے تحت خودکار مالی نقصان سے محفوظ رہے گا۔