فیڈرل بورڈ آف ریوന്യൂ (ایف بی آر) نے ایک اہم انتظامی فیصلے میں جمیل ناصر کو نیا چیف کلکٹر انفورسمنٹ تعینات کر دیا ہے۔ اس سے قبل وہ متنازعہ فیس لیس کسٹم سسٹم کی نگرانی کر چکے ہیں، اور اب انہیں محکمے کے حساس ترین عہدوں میں سے ایک پر ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

تین اگست 2026 کو جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق، ایف بی آر نے پاکستان کسٹم سروس کے بی ایس 19 سے بی ایس 21 گریڈ کے آٹھ سینئر افسران کے تبادلے فوری طور پر کر دیے ہیں۔ ان تقرریوں نے کاروباری حلقوں اور بیوروکریسی میں نئی بحث چھڑ دی ہے، بالخصوص جمیل ناصر کا ماضی کا ڈیجیٹل کسٹمز کے تجربات سے تعلق ہونے کی وجہ سے تاجر برادری میں اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

تقرریاں اور کارروائیاں

ایف بی آر کی اس تازہ کارروائی میں ملک بھر کے اہم کسٹم ونگز کو متاثر کرنے والے تبادلے کیے گئے ہیں۔

  • بی ایس 19 سے بی ایس 21 کے آٹھ سینئر کسٹم افسران کے تبادلے کیے گئے۔
  • جمیل ناصر کو چیف کلکٹر انفورسمنٹ تعینات کر دیا گیا۔
  • احکامات 3 اگست 2026 کو ایف بی آر انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے۔
  • اسی دوران کنٹینر معائنے میں غفلت برتنے والے ایک افسر کے خلاف الگ سے تادیبی کارروائی کا اعلان کیا گیا۔

علاوہ ازیں، ٹیکس انتظامیہ نے فیلڈ کی سطح پر نگرانی بھی سخت کر دی ہے۔ پیر کے روز جاری ہونے والے ایک اور نوٹیفیکیشن میں ایف بی آر نے کنٹینر کی تلاشی کے دوران بڑے پیمانے پر سامان کی چھپائی پکڑنے میں ناکام رہنے پر پریوینٹیو افسر مبشر علی کو غفلت پر سزا دی ہے۔

تاجروں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

جمیل ناصر کی بطور چیف کلکٹر انفورسمنٹ تعیناتی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک بھر کے بندرگاہوں اور ڈرائی پورٹس پر چیکنگ کا نظام مزید سخت کیا جا رہا ہے۔ درآمدات سے وابستہ کاروباری افراد کو چاہیے کہ وہ اپنی کلیئرنس کے عمل میں تمام ضابطوں کا سختی سے خیال رکھیں کیونکہ محکمے کی جانب سے سمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات متوقع ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

آئندہ چند ہفتوں کے دوران کراچی اور پورٹ قاسم پر کلیئرنس کے اوقات اور طریقہ کار پر گہری نظر رکھیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ نئی قیادت کے آنے سے زمینی حقائق کتنے بدلے ہیں۔ تجارتی تنظیموں کی جانب سے اس تقرری پر ردعمل آنے کا بھی امکان ہے جو اس بات کا تعین کرے گا کہ نئی انتظامیہ کاروبار میں آسانی اور انسداد سمگلنگ مہم کے درمیان کیسے توازن قائم کرتی ہے۔