وفاقی محصولات (ایف بی آر) نے 1 اکتوبر 2026 سے کسٹم کلیئرنس میں تاخیر پر روزانہ جرمانے نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام ملک کے بڑے بندرگاہوں اور اندرون ملک کنٹینر ڈپو (آئی سی ڈی) پر تاخیر سے ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ایف بی آر نے 20 ستمبر 2026 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا ہے کہ تاخیر پر جرمانے درج ذیل شرحوں پر عائد ہوں گے:

  • پہلی تین دنوں کے لیے روزانہ پانچ ہزار روپے
  • چوتھے سے ساتویں دن تک روزانہ دس ہزار روپے
  • سات دن سے زائد تاخیر پر روزانہ بیس ہزار روپے

جرمانے کسٹم ڈی کلریشن (جی ڈی) جمع کرانے کی تاخیر سے منسلک ہیں۔ اگر آپ نے 24 گھنٹے کے اندر جی ڈی جمع نہیں کروائی تو پہلا جرمانہ لگ جائے گا۔ یہ جرمانے کراچی پورٹ، پورٹ قاسم، گوادر پورٹ اور ملک بھر کے اندرون ملک کنٹینر ڈپو پر آنے والے تمام سامان پر لاگو ہوں گے۔

کیوں اب یہ اقدام؟

پاکستان کا تجارتی خسارہ 2026 میں بڑھ رہا ہے اور حکومت نے بڑے بندرگاہوں پر سامان کی کلیئرنس کا اوسط وقت 10-12 دنوں سے کم کر کے دسمبر 2026 تک پانچ دن سے کم کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ نئے جرمانے کاروباری اداروں اور کسٹم ایجنٹوں کو تاخیر سے بچنے پر مجبور کریں گے۔ نوٹیفکیشن میں کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 19 کو قانونی بنیاد کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

کون متاثر ہوگا سب سے زیادہ؟

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے جو فوری انوینٹری پر انحصار کرتے ہیں، ان پر سب سے زیادہ بوجھ پڑے گا۔ ٹیکسٹائل اور دواسازی کے شعبے کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ان کے خام مال کی تاخیر سے پیداوار اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔

جرمانوں سے کیسے بچیں؟

  • جی ڈی 24 گھنٹے کے اندر جمع کروائیں۔ جہاز کے بندرگاہ پر پہنچنے کے 24 گھنٹے کے اندر جی ڈی جمع کرانا لازمی ہے۔
  • تمام دستاویزات مکمل رکھیں۔ انویس، پیکنگ لسٹ، اور اوریجن سرٹیفکیٹ جیسی دستاویزات کی کمی سے تاخیر اور جرمانے ہو سکتے ہیں۔
  • ویباک استعمال کریں۔ پاکستان کسٹمز کمپیوٹرائزڈ سسٹم (WeBOC) کے ذریعے جی ڈی جمع کرانے اور ڈیوٹی ادا کرنے کا انتظام کریں۔ رجسٹر ہونا نہ بھولیں۔
  • اپنے سامان کی حیثیت پر نظر رکھیں۔ ویباک پر ریئل ٹائم اپ ڈیٹس حاصل کریں اور ڈیڈ لائنز سے آگاہ رہیں۔
  • لائسنس یافتہ کسٹم ایجنٹ کی خدمات حاصل کریں۔ اگر آپ کی ٹیم کو کسٹم کے امور کی مناسب معلومات نہیں، تو ایک لائسنس یافتہ ایجنٹ کو رکھیں جو آپ کی جانب سے تمام امور سنبھال سکے۔

ایف بی آر نے پہلی بار تاخیر پر 72 گھنٹے کی رعایت بھی دی ہے، لیکن یہ صرف تکنیکی خرابیوں یا ناقابل برداشت حالات کے لیے ہے۔

اگر جرمانہ لگ جائے تو کیا کریں؟

اگر آپ کو جرمانے کا نوٹس موصول ہو، تو آپ 30 دن کے اندر کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ ٹربیونل کو یہ اختیار ہے کہ وہ جرمانے کو معاف یا کم کر سکے اگر آپ یہ ثابت کر سکیں کہ تاخیر آپ کے قابو سے باہر کے حالات کی وجہ سے ہوئی تھی۔ تمام ریکارڈز اور ثبوت محفوظ رکھیں۔

ایف بی آر نے کاروباری اداروں کی مدد کے لیے ایک ہیلپ لائن بھی شروع کی ہے۔ نمبر 051-111-002-276 ہے اور ای میل customs.help@fbr.gov.pk ہے۔ ہیلپ لائن ہفتے کے پانچ دن صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک دستیاب ہے۔

آگے کیا ہے؟

ایف بی آر جنوری 2027 تک برآمدات پر بھی اسی طرح کے جرمانے نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، آرٹفیشل انٹیلی جنس کے استعمال سے تاخیر کے خطرے والے سامان کی نشاندہی کی جائے گی، جس سے قبل از وقت معائنہ کا نظام مزید سخت ہو جائے گا۔

فی الحال، کاروباری اداروں کو 1 اکتوبر کی ڈیڈ لائن پر پورا دھیان دینا ہوگا۔ تاخیر نہ صرف جرمانے کا باعث بنے گی بلکہ بین الاقوامی سپلائرز کے ساتھ آپ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گی۔

اہم نکات

  • نئے روزانہ جرمانے 1 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوں گے۔
  • جرمانے پانچ ہزار سے بیس ہزار روپے روزانہ تک ہوں گے۔
  • ویباک کے ذریعے جی ڈی جمع کروائیں اور سامان کی حیثیت پر نظر رکھیں۔
  • جی ڈی 24 گھنٹے کے اندر جمع کروائیں۔
  • جرمانے پر 30 دن کے اندر اپیل دائر کریں۔

وقت بہت کم ہے۔ اگر آپ پاکستان میں سامان درآمد کرتے ہیں، تو ابھی اپنے کسٹم کے طریقہ کار کا جائزہ لیں ورنہ آپ کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔