وفاقی کابینہ نے سرکاری اداروں میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے اور ڈیجیٹل تحفظ کے معیارات کو یکساں بنانے کے لیے پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2026 کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ کابینہ اجلاس کے دوران منظور کیا جانے والا یہ تاریخی فریم ورک، صوبائی اور محکمانہ سطح پر بکھری ہوئی آئی ٹی پالیسیوں کو ایک واحد اور لازمی قومی سائبر سیکیورٹی معیار میں تبدیل کرے گا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن (MoITT) ان نئے رہنما خطوط کے نفاذ کی نگرانی کرے گی، جن کا مقصد سرکاری ڈیٹا بیس، اہم ترین انفراسٹرکچر اور قومی مواصلاتی نیٹ ورکس کو محفوظ بنانا ہے۔

اس نئے منظور شدہ فریم ورک کے بارے میں اہم ترین حقائق درج ذیل ہیں:
- سرکاری نام: پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2026 (PISF 2026)
- منظور کرنے والی اتھارٹی: وفاقی کابینہ، حکومتِ پاکستان
- بنیادی مقصد: یکساں سائبر سیکیورٹی معیارات کا نفاذ اور ریاستی ڈیجیٹل اثاثوں کا تحفظ۔
- نفاذ کا وقت: 2026 کے اوائل سے مرحلہ وار نفاذ، اور سال کے آخر تک تمام وفاقی وزارتوں کے لیے آڈٹ لازمی قرار۔
- شامل اہم ادارے: نیشنل سرٹ (National CERT)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، اور ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ۔

پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2026 کیا ہے؟

پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2026 ڈیجیٹل دفاع کے لیے ایک جامع گائیڈ بک کا کام کرے گا۔ ماضی کی محض مشاورتی گائیڈ لائنز کے برعکس، یہ فریم ورک ہر وفاقی وزارت، ڈویژن اور منسلک محکموں کے لیے لازمی قرار دیتا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل سسٹمز کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سیکیورٹی پروٹوکولز (جیسے ISO 27001) کے مطابق ڈھالیں۔

اس فریم ورک کے تحت، تمام سرکاری اداروں کے لیے ایک مخصوص چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسر (CISO) کا تقرر اور اندرونی سیکیورٹی ٹیمیں تشکیل دینا لازمی ہوگا۔ یہ ٹیمیں سرکاری نیٹ ورکس کی مسلسل نگرانی، سیکیورٹی خامیوں کی باقاعدہ جانچ اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی رپورٹ براہِ راست نیشنل سرٹ کو بھیجنے کی ذمہ دار ہوں گی۔

مزید برآں، فریم ورک میں ڈیٹا کی درجہ بندی کے لیے واضح قوانین وضع کیے گئے ہیں۔ اب سرکاری ڈیٹا کو پبلک سے لے کر انتہائی خفیہ تک کے سخت زمروں میں تقسیم کیا جائے گا، تاکہ حساس قومی سلامتی کے ڈیٹا تک غیر مجاز افراد کی رسائی کو روکا جا سکے۔

سرکاری دفاتر اور اہم ترین انفراسٹرکچر کے لیے لازمی معیارات

اس فریم ورک کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے اہم ترین قومی انفراسٹرکچر کے تحفظ پر مرکوز ہے، جس میں نیپرا کے زیرِ انتظام بجلی کے گرڈز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کے تحت بینکنگ سسٹمز، اور نادرا کا قومی شناختی ڈیٹا بیس شامل ہے۔

فریم ورک کے تحت ان تمام اداروں کے لیے ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن (MFA)، حساس ڈیٹا کی منتقلی کے لیے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن، اور ضروری آپریشنل ٹیکنالوجی کے محفوظ بیک اپ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، تمام سرکاری محکموں کو وزارت آئی ٹی سے منظور شدہ سیکیورٹی فرموں کے ذریعے سالانہ سیکیورٹی آڈٹ کروانا ہوگا۔ خلاف ورزی کرنے والے اداروں کو انتظامی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس بڑی تبدیلی میں مدد کے لیے وفاقی حکومت اگلے ترقیاتی بجٹ میں پرانے سرکاری دفاتر کے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

پاکستان کو اس فریم ورک کی فوری ضرورت کیوں ہے؟

حالیہ برسوں میں، پاکستانی پبلک سیکٹر کے اداروں کو انتہائی پیچیدہ سائبر حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ڈیٹا بیس کو نشانہ بنانے والے رینسم ویئر حملوں سے لے کر اعلیٰ سرکاری حکام کو نشانہ بنانے والی فشنگ مہمات تک، ایک مرکزی سیکیورٹی معیار کی عدم موجودگی نے ریاستی ڈیجیٹل ڈھانچے کو کمزور کر دیا تھا۔

پہلے ہر محکمہ اپنی سیکیورٹی خود سنبھالتا تھا، جو اکثر پرانے سافٹ ویئر اور غیر تربیت یافتہ عملے پر انحصار کرتے تھے۔ اس غیر مرکزی طریقے کا مطلب یہ تھا کہ کسی ایک چھوٹے محکمے کے نیٹ ورک میں موجود خامی کو ہیکرز بڑے وفاقی سسٹمز تک پہنچنے کے لیے استعمال کر سکتے تھے۔ پاکستان انفارمیشن سیکیورٹی فریم ورک 2026 اس بنیادی خامی کو دور کرتا ہے۔

عام شہریوں کے لیے یہ فریم ورک ان کے ذاتی ڈیٹا کی حفاظت کی ضمانت ہے۔ جب آپ ایف بی آر میں ٹیکس ریٹرن جمع کراتے ہیں، نادرا میں اپنا شناختی کارڈ اپ ڈیٹ کرتے ہیں، یا موبائل بینکنگ استعمال کرتے ہیں، تو آپ کا ڈیٹا انہی نیٹ ورکس پر ہوتا ہے۔ ان نیٹ ورکس کو محفوظ بنا کر حکومت ڈیٹا لیکس اور مالیاتی فراڈ کو روکنا چاہتی ہے۔

اداروں اور آئی ٹی ماہرین کے لیے اہم ہدایات

اگر آپ کوئی آئی ٹی کمپنی چلاتے ہیں، سسٹم ایڈمنسٹریٹر ہیں، یا کسی ایسے کاروبار سے وابستہ ہیں جو حکومت کے ساتھ شراکت داری کرتا ہے، تو آپ کو ان نئے قوانین کے مطابق فوری اقدامات کرنے ہوں گے:
- شراکت داری کے قوانین کا جائزہ لیں: سرکاری محکموں کو آئی ٹی خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو اب اپنے سافٹ ویئر کو اس فریم ورک کے مطابق بنانا ہوگا۔
- عملے کی تربیت کریں: آئی ٹی ٹیموں کے لیے سائبر سیکیورٹی سرٹیفیکیشنز (جیسے CISSP) میں سرمایہ کاری کریں کیونکہ آنے والے وقت میں ان کی مانگ بڑھے گی۔
- سیکیورٹی کے بنیادی اصول اپنائیں: نجی اداروں کو بھی فریم ورک کی اہم سفارشات، جیسے مضبوط پاس ورڈ پالیسی اور ڈیٹا بیک اپ کو لاگو کرنا چاہیے۔

آگے کیا ہونے والا ہے؟

آنے والے مہینوں میں، وزارت آئی ٹی اس فریم ورک کے تحت مخصوص ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کی ضروریات کی تفصیلات پر مبنی تکنیکی کتابچے شائع کرے گی۔ ٹیلی کام، فنانس اور انرجی کے شعبوں کے لیے خصوصی سیکیورٹی ٹیموں (sectoral CERTs) کے قیام پر نظر رکھیں جو براہِ راست مرکزی نیشنل سرٹ کے ساتھ کام کریں گی۔

اس فریم ورک کی کامیابی کا اصل انحصار اس کے سخت نفاذ پر ہے۔ اگرچہ پالیسی کی منظوری ایک بڑا قدم ہے، لیکن سینکڑوں سرکاری محکموں میں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل فنڈنگ اور سخت نگرانی کی ضرورت ہوگی۔