وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر کے لیے ایک یکساں آن لائن پولیس کریکٹر سرٹیفکیت سسٹم کی منظوری کے بعد شہریوں کے لیے پولیس کلیئرنس حاصل کرنا اب کافی آسان ہو جائے گا۔ برسوں سے اس بنیادی تصدیق کے حصول کے لیے مقامی پولیس اسٹیشنوں، ضلعی دفاتر اور صوبائی پورٹلز کے چکر لگانا پڑتے تھے، خواہ آپ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں مقیم ہوں۔ نئے منظور شدہ فریم ورک کا مقصد ان تمام الگ تھلگ پورٹلز کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل ونڈو میں ضم کرنا ہے۔

پرانا نظام کیوں ناکام تھا؟

اگر آپ نے کبھی بیرون ملک نوکری، بین الاقوامی وظیفے یا ویزا کی تجدید کے لیے درخواست دی ہے، تو آپ موجودہ تصدیق کے طریقہ کار کی مشکلات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ ہر صوبے کا اپنا الگ ایپلیکیشن پورٹل تھا جس کے پروسیسنگ کے اوقات، فیس کے ڈھانچے اور دستاویزات کی ضروریات مختلف تھیں۔ اسلام آباد کا نظام الگ تھا، آزاد کشمیر کا الگ، اور ایک ہی صوبے کے اندر ایک ضلع سے دوسرے ضلع منتقل ہونے پر اکثر کاغذی کارروائی نئے سرے سے شروع کرنا پڑتی تھی۔

تاخیر اکثر ہفتوں تک پھیل جاتی تھی، جس کی وجہ سے درخواست گزاروں کو اپنی فائل کا اسٹیٹس جاننے کے لیے ایجنٹوں یا ذاتی رابطوں کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ ڈیٹا بیسز میں مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی نوعیت کے کریمنل ریکارڈ چیک کے لیے بھی ان تمام مقامی تھانوں سے مینول کلیئرنس درکار ہوتی تھی جہاں آپ پہلے رہائش پذیر رہے ہوں۔

نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم کیسے کام کرے گا؟

اگرچہ تمام صوبوں اور وفاقی علاقوں میں مکمل تکنیکی انضمام کو نافذ ہونے میں چند ماہ لگیں گے، لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ چند اہم اصولوں پر مبنی ہے:

  • مرکزی درخواست کا نظام جو انٹرنیٹ سے منسلک کسی بھی ڈیوائس سے قابل رسائی ہو۔
  • درخواست گزار کی اسناد کی فوری تصدیق کے لیے قومی شناختی ڈیٹا بیس کے ساتھ خودکار انضمام۔
  • تمام حصہ لینے والے دائرہ اختیار میں یکساں پروسیسنگ فیس۔
  • حتمی تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ کی آپ کے ای میل یا محفوظ ڈیش بورڈ پر ڈیجیٹل ترسیل۔

یہ طریقہ کار روزمرہ کی انتظامی رکاوٹوں سے انسانی عمل دخل کو ختم کر کے دیگر کامیاب ای گورننس اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک بار جب یہ مکمل طور پر فعال ہو جائے گا، تو آپ کے مقامی تھانے کا چکر شاید کسی نامزد نادرا یا پولیس سہولت مرکز پر ڈیجیٹل فنگر پرنٹ اسکین تک محدود ہو جائے گا۔

آپ کو اب کیا کرنا چاہیے؟

فی الحال اپنے صوبائی پولیس ایپ کو فوری طور پر ڈیلیٹ نہ کریں کیونکہ یہ تبدیلی آنے والے مہینوں میں مرحلہ وار ہوگی۔ اگر اس ہفتے آپ کی کوئی فوری ویزا درخواست یا ملازمت کی آخری تاریخ قریب ہے، تو پنجاب پولیس کے خدمت مرکز یا سندھ کے ڈیجیٹل پولیس پورٹلز جیسے موجودہ صوبائی ذرائع پر ہی انحصار کریں۔

اپنی ڈیجیٹل دستاویزات تیار رکھیں، جن میں شناختی کارڈ کی اسکین کاپیاں، پاسپورٹ سائز تصاویر، اور ملازمت یا تعلیمی ریفرنس لیٹرز شامل ہیں۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے مستقل اور عارضی رہائشی پتے آپ کے شناختی کارڈ کی تفصیلات سے مطابقت رکھتے ہوں تاکہ نئے سسٹم کے فعال ہونے پر آپ کو تصدیق میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

آگے کیا دیکھنا ہے؟

لانچ کے درست ٹائم لائنز اور پورٹل کے پتے کے حوالے سے وزارت داخلہ کے باضابطہ اعلانات پر نظر رکھیں۔ اس اقدام کا سب سے بڑا چیلنج ڈیٹا سیکیورٹی سے سمجھوتہ کیے بغیر صوبائی پولیس کے ڈیٹا بیسز کو وفاقی سرورز کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

اس بات کی اپ ڈیٹس کا انتظار کریں کہ آیا بیرون ملک مقیم پاکستانی اس نئے پورٹل کے ذریعے براہ راست بیرون ملک پاکستانی مشنز کے ذریعے درخواست دے سکیں گے۔ اگر حکومت اپنے ہدف کے مطابق اس کا نفاذ کر لیتی ہے، تو یہ ملک میں بیوروکریسی کی سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک کا خاتمہ ثابت ہو سکتا ہے۔