ترقی کے منتظر سینکڑوں وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے ایک اہم پیشرفت کے تحت وفاقی حکومت نے گریড 20 اور 21 میں ترقیوں کے لیے سینٹرل سلیکشن بورڈ (سی ایس بی) کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے تحت ہونے والا یہ طویل التوا کا شکار اجلاس اسلام آباد میں بیوروکریسی کے کیسز کے بڑے بیک لاگ کو ختم کرے گا۔ مختلف سروس گروپس سے تعلق رکھنے والے افسران طویل عرصے سے اپنے موجودہ گریڈز میں پھنسے ہوئے تھے اور اس باضابطہ جائزے کے منتظر تھے۔
سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس افسران کے لیے کیوں اہم ہے
وفاقی بیوروکریسی میں کیریئر کی ترقی سست روی کا شکار رہتی ہے، جس کی وجہ سے سینٹرل سلیکشن بورڈ کے اجلاس سینئر بیوروکریٹس کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ جب بورڈ افسران کی ڈوزیئرز کا جائزہ لیتا ہے تو انتظامی خدمات، پولیس سروس اور دیگر مخصوص کیڈر کے درجنوں سول سرونٹس کو جوائنٹ سیکرٹری یا ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدوں پر ترقی ملنے کا امکان ہوتا ہے۔ اس ادارے کا اجلاس بلانے میں تاخیر سے اسلام آباد کی وزارتوں اور صوبائی محکموں میں انتظامی جمود پیدا ہوتا ہے، جس سے حکومت کی اعلیٰ سطح پر پالیسی سازی اور فیصلہ سازی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔
ترقی کے عمل میں آگے کیا ہوگا
اگر آپ ان ترقیوں کے منتظر اہل افسران میں شامل ہیں، تو آپ کی سروس بک، سالانہ خفیہ رپورٹس (ACRs) اور انٹیگریٹی رپورٹس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن امیدواروں کا جائزہ سختی سے کرتا ہے، جس میں سینارٹی، لازمی ٹریننگ کورسز کی تکمیل اور محکمانہ انکوائریوں سے پاک ہونا شامل ہے۔ ایک بار جب بورڈ اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دیتا ہے تو وزیراعظم آفس کی جانب سے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کیے جاتے ہیں۔ آپ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ establishment.gov.pk پر نظر رکھیں تاکہ اجلاس کی تاریخ اور فائنل لسٹ سے متعلق بروقت معلومات مل سکیں۔
متعلقہ سرکاری ملازمین کو اب کیا کرنا چاہیے
جن افسران کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے انہیں چاہیے کہ بورڈ کے اجلاس سے پہلے اپنی تمام انتظامی دستاویزات کو درست کر لیں۔ آپ فوری طور پر متعلقہ وزارت کے ایڈمنسٹریشن ونگ سے رابطہ کر کے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کے ترقیاتی پینلز، جائیداد کے گوشوارے اور ٹریننگ کے سرٹیفکیٹس مکمل ہیں۔ اگر کوئی کاغذ غائب ہے تو بغیر کسی تاخیر کے اپنے سیکشن آفیسر سے رجوع کریں تاکہ آپ کا کیس کسی غیر ضروری تاخیر کا شکار نہ ہو۔
