وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
یوم استحصال کشمیر کے موقع پر حکومتی رہنماؤں نے لائن آف کنٹرول کے پار جاری بحران پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے تفصیلات بتائیں کہ کس طرح سرکاری سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات نے مقامی آبادی کو دبایا ہوا ہے اور متنازعہ خطے میں بنیادی شہری آزادیوں کو محدود کر رکھا ہے۔ وفاقی وزراء نے من مانے فیصلوں، مواصلاتی بلیک آؤٹس اور اظہار رائے پر پابندیوں کو ایسے اہم مسائل قرار دیا جن پر فوری عالمی توجہ کی ضرورت ہے۔
یوم استحصال کشمیر کی اہمیت
یوم استحصال کشمیر کا دن منانے کا مقصد اسلام آباد کی طرف سے سفارتی دباؤ بڑھانا اور عالمی برادری کو اقوام متحدہ کی غیر حل شدہ قراردادوں کی یاد دلانا ہے۔ وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے واضح طور پر نئی دہلی کے اقدامات کو کشمیری شہریوں کی وقار اور خود مختاری پر براہ راست حملہ قرار دیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اس وقت تک مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا جب تک انہیں ان کا حق خود ارادیت نہیں مل جاتا۔
اسلام آباد میں سول سایت اور سیاسی رہنماؤں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سمیت عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ زمینی حالات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔ حکام نے نشاندہی کی کہ سری نگر اور گردونواح میں آزاد میڈیا اور غیر ملکی مشاہدین پر پابندیوں کی وجہ سے روزمرہ کی مشکلات کی درست رپورٹنگ ممکن نہیں ہو پا رہی۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے
اگر آپ باخبر رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان بھر میں ہونے والی یکجہتی کی تقریبات میں حصہ لینا چاہتے ہیں، تو ریلیوں، سیمینارز اور پرامن مظاہروں کے حوالے سے وزارت خارجہ یا مقامی ضلعی انتظامیہ کے سرکاری اعلانات کو دیکھیں۔ آپ سفارتی پیش رفت اور بین الاقوامی اپیلوں پر نظر رکھنے کے لیے وزارت خارجہ کی آفیشل ویب سائٹ mofa.gov.pk پر وزٹ کر کے وقتاً فوقتاً جاری ہونے والی رپورٹس اور پالیسی بریفز بھی پڑھ سکتے ہیں۔
آگے کیا دیکھنا ہے
اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ پارلیمانی سیشنز پر نظر رکھیں جہاں مقبوضہ کشمیر سے متعلق مزید قراردادیں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ بین الاقوامی اداروں کے ممکنہ بیانات اور جموں و کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رابطہ گروپ کے آئندہ اجلاسوں کا مشاہدہ کریں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ علاقائی سفارت کاری ان جاری خدشات کا کیا جواب دیتی ہے۔
