ایف آئی اے اور سائبر کرائم ایجنسی کی جانب سے 374 چینی باشندوں کی گرفتاری ایک بڑے مشترکہ آپریشن کے دوران عمل میں آئی ہے، جس کا ہدف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی اور غیر قانونی کال سینٹرز کا خاتمہ تھا۔ یہ کارروائی ملک میں غیر ملکیوں کی جانب سے ویزا اور سائبر قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔

آپریشن کی تفصیلات

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر یہ چھاپے مارے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ افراد رہائشی علاقوں سے غیر قانونی کال سینٹرز چلا رہے تھے، جن کا استعمال مبینہ طور پر مختلف قسم کے سائبر فراڈ کے لیے کیا جا رہا تھا۔ حکام اب ان افراد کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں تاکہ ان کے ویزا سٹیٹس اور ملک میں غیر قانونی قیام کی مدت کا تعین کیا جا سکے۔

غیر قانونی کال سینٹرز کے خطرات

یہ آپریشن بین الاقوامی سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے کو اجاگر کرتا ہے۔ اس طرح کے غیر قانونی کال سینٹرز اکثر مالی فراڈ کے اڈے بن جاتے ہیں جو مقامی اور بین الاقوامی شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستان کی سرزمین کو ان مقاصد کے لیے استعمال کرنا ملکی سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، اسی لیے NCCIA نے اب سخت موقف اختیار کیا ہے۔

شہریوں کے لیے ہدایت

اگر آپ کو اپنے علاقے میں کسی بھی مشکوک سرگرمی یا غیر رجسٹرڈ کال سینٹر کے بارے میں معلوم ہو، تو آپ ایف آئی اے کے آفیشل پورٹل پر اس کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانونی اجازت کے بغیر کاروبار کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔

آئندہ دنوں میں حکام ضبط شدہ ہارڈویئر، بشمول سرورز اور لیپ ٹاپس کا فرانزک آڈٹ کریں گے۔ یہ ڈیٹا ان مجرمانہ نیٹ ورکس کی جڑیں تلاش کرنے کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔ توقع ہے کہ تحقیقات کے اگلے مراحل میں ڈیپورٹیشن (بے دخلی) اور قانونی چارہ جوئی کا عمل تیز کیا جائے گا۔