وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے اسلام آباد میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف ایک بڑے آپریشن کے دوران 400 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ اسلام آباد میں ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 400 غیر ملکی گرفتار کیے جانے کا یہ واقعہ دارالحکومت میں غیر قانونی قیام کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں تیزی کو ظاہر کرتا ہے۔

اسلام آباد میں ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 400 غیر ملکی گرفتار: تفصیلات

ایف آئی اے حکام کے مطابق، گرفتار کیے گئے افراد میں ویتنام، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے شہری شامل ہیں۔ یہ کارروائی وفاقی دارالحکومت کے مختلف سیکٹرز میں کی گئی، جہاں ان افراد کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جن کے ویزے یا تو ختم ہو چکے تھے یا جن کے پاس قیام کے لیے درست دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ ایف آئی اے کی ٹیمیں اب ان افراد کے سفری کوائف کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن ملک بھر میں اس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام غیر ملکی باشندے پاکستان کے امیگریشن قوانین کی پاسداری کریں۔ پکڑے گئے افراد میں سے اکثر بغیر کسی قانونی حیثیت کے شہر میں رہائش پذیر تھے یا کام کر رہے تھے۔

زیر حراست افراد کا قانونی عمل کیا ہوگا؟

ایف آئی اے کے ضابطہ اخلاق کے مطابق، بغیر درست ویزا پائے جانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ ادارے کی جانب سے ان افراد کے سفری ریکارڈ کو 'انٹیگریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم' (IBMS) کے ذریعے چیک کیا جا رہا ہے۔ جن افراد کے ویزے ختم ہو چکے ہیں، انہیں ڈیپورٹیشن (وطن واپسی) کے عمل سے گزارا جائے گا، جبکہ دیگر معاملات کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

  • سفری دستاویزات اور پاسپورٹ کی تصدیق۔
  • قومی ڈیٹا بیس کے ساتھ ناموں کا موازنہ۔
  • وطن واپسی کے لیے متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ۔
  • ویزا کی مدت ختم ہونے پر جرمانے یا قانونی کارروائی۔

آئندہ کیا متوقع ہے؟

یہ کریک ڈاؤن آنے والے دنوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے کیونکہ حکومت بارڈر مینجمنٹ اور اندرونی سیکیورٹی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ اگر آپ پاکستان میں مقیم غیر ملکی شہری ہیں، تو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اپنے ویزا کی حیثیت کو اپ ڈیٹ رکھیں اور ہر وقت اپنی شناخت کے دستاویزات ساتھ رکھیں۔ اس آپریشن کے بعد ان 400 افراد کی وطن واپسی کے حوالے سے وزارت داخلہ کی جانب سے مزید اعلانات متوقع ہیں۔

ہم اس آپریشن کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور امیگریشن قوانین میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے بارے میں آپ کو آگاہ کرتے رہیں گے۔