وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں ایک کامیاب کارروائی کے دوران کسٹم کے دو افسران کو 5 لاکھ روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق، یہ کارروائی بدھ 22 مئی 2024 کی رات کو عمل میں لائی گئی۔

کسٹم افسران کی گرفتاری کی تفصیلات

ایف آئی اے کو کافی عرصے سے کسٹم کے شعبے میں کرپشن اور غیر قانونی رقوم کے مطالبے کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ کارروائی کے دوران، افسران کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ غیر قانونی طور پر سامان کی کلیئرنس کے عوض رشوت وصول کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق، رشوت کی رقم 5 لاکھ روپے تھی جو موقع پر ہی برآمد کر لی گئی۔

سرکاری محکموں میں کرپشن کا یہ ناسور عوامی اعتماد کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی تجارت کی شفافیت کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔ ایف آئی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ گرفتاری ان عناصر کے خلاف مہم کا حصہ ہے جو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر شہریوں اور تاجروں سے رقوم بٹورتے ہیں۔

شہریوں کے لیے ہدایت

اگر آپ سے کبھی کوئی سرکاری افسر غیر قانونی رشوت کا مطالبہ کرے تو خاموش رہنے کے بجائے فوری طور پر ایف آئی اے سے رجوع کریں۔ رشوت دینا یا لینا دونوں ہی قانونی جرم ہیں اور آپ کو بڑی مصیبت میں ڈال سکتے ہیں۔

  • اپنی شکایات ایف آئی اے کی ویب سائٹ fia.gov.pk پر درج کروائیں۔
  • رشوت مانگنے والے افسر کا نام، وقت اور مقام کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔
  • کسی بھی غیر قانونی مطالبے پر ادائیگی کرنے سے گریز کریں اور قانونی راستے کا انتخاب کریں۔

آگے کیا ہوگا؟

گرفتار ہونے والے افسران کے خلاف اینٹی کرپشن عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ ایف آئی اے کی ٹیمیں اب اس بات کی تحقیقات کر رہی ہیں کہ آیا یہ افسران کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھے یا اکیلے کام کر رہے تھے۔ آنے والے دنوں میں ان افسران کی ملازمت سے معطلی اور قانونی کارروائی کے مزید مراحل متوقع ہیں۔